پاکستان کا یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے فوری جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کی بحالی کا مطالبہ

6

اقوامِ متحدہ، 22 جون (اے پی پی ): پاکستان نے یوکرین میں جاری تنازع کے مسلسل پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور مذاکرات و سفارت کاری کی بحالی پر زور دیا ہے، اور کہا ہے کہ پائیدار امن کا واحد قابلِ عمل راستہ بات چیت اور سفارتی کوششیں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے افسوس کا اظہار کیا کہ تنازع کے حل کی جانب کوئی مثبت پیش رفت دیکھنے میں نہیں آ رہی، جبکہ مسلسل حملوں کے باعث نہ صرف جنگ میں شدت آ رہی ہے بلکہ انسانی بحران بھی مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے دائرۂ کار میں توسیع سے شہری آبادی کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے اور شہری بنیادی ڈھانچے کو مزید نقصان پہنچا ہے۔نائب مستقل مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریق بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون، کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کریں۔ انہوں نے شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔

سفیر عثمان جدون نے موجودہ خطرناک صورتحال کا رخ موڑنے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، نہ کہ فوجی برتری کے حصول کی کوششوں سے۔

انہوں نے فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات اور بامعنی مذاکرات کی بحالی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس ضمن میں انہوں نے پاکستان کے اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ فوری اور مکمل جنگ بندی کی جائے اور امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کیا جائے۔

نائب مستقل مندوب نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں، تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں کے مطابق باہمی طور پر قابلِ قبول اور پُرامن تصفیہ ہی اس تنازع کے دیرپا حل کا واحد راستہ ہے۔

پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان تنازع کے منصفانہ، جامع، پائیدار اور پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔