اسلام آباد، 23 جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان زرعی تعاون کا فروغ علاقائی غذائی تحفظ، سرمایہ کاری میں اضافے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے، پاکستان زرعی پیداوار کے شعبے میں وسیع صلاحیتوں کا حامل ہے اور ایرانی منڈی کو اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات فراہم کرنے کی مکمل استعداد رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرِ جہادِ زراعت غلام رضا نوری قزلجہ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں دونوں ممالک نے زرعی تجارت میں تیزی، دوطرفہ تعاون کے فروغ اور مشترکہ اعلامیے کے فیصلوں پر آئندہ دو ماہ کے اندر عملدرآمد کرنے پر اتفاق کیا۔ وفاقی وزیر نے اپنے 2025 کے سرکاری دورۂ ایران کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران نے پاکستانی چاول، آم اور گوشت کی درآمد میں دلچسپی ظاہر کی تھی، جبکہ ایرانی وزیر نے لائیو اسٹاک مصنوعات کے معیار پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران کی گوشت کی مجموعی ضروریات کا 60 فیصد پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اجلاس میں زراعت، لائیو اسٹاک اور تجارتی سہولت کاری کے شعبوں میں رکاوٹیں دور کرنے، پاکستان۔ایران مشترکہ ورکنگ کمیٹی برائے زراعت کو مکمل فعال بنانے اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے دوطرفہ روابط کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔











