اسلام آباد جون 24: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسپیکر سردار ایاز صادق نے اراکین ایوان پر زور دیا کہ وہ پارلیمانی وقار کو برقرار رکھیں اور باہمی احترام کا خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات کو ذاتی حملوں کے بجائے مسائل اور پارلیمانی امور تک محدود رہنا چاہیے۔
بجٹ اجلاس کے دوران ایوان سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے تمام فیصلے اور رولنگز آئین اور قواعد و ضوابط کے عین مطابق کیے گئے ہیں۔
ایاز صادق نے کہا کہ کسی بھی رکن نے آئین کی کسی مخصوص شق کی نشاندہی نہیں کی جس کی انہوں نے مبینہ طور پر خلاف ورزی کی ہو۔سپیکر نے کہا کہ سپیکر کا عہدہ آئینی اور ضابطے کی پابندیوں کا پابند ہے اور اسے دیے گئے اختیارات سے تجاوز نہیں کر سکتا۔
انہوں نے زور دیا کہ ان کا واحد مقصد ایوان کی کارروائی کو منصفانہ اور غیر جانبدارانہ طریقے سے چلانا ہے اور حکومتی و اپوزیشن بنچوں کے اراکین کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بجٹ بحث کے دوران قانون سازوں کو ہر ممکن سہولت دینے کی کوشش کی اور اپوزیشن کو تقاریر کے لیے اصل مختص وقت سے تقریباً دوگنا وقت دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ بجٹ بحث میں 67 اراکین نے حصہ لیا اور سیکرٹریٹ نے ان اراکین سے بار بار رابطہ کیا جنہوں نے ابھی تک اظہار خیال نہیں کیا تھا تاکہ ہر خواہشمند رکن کو موقع دیا جا سکے۔
ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمانی عہدے عارضی ہوتے ہیں، لیکن قانون سازوں کے درمیان باہمی احترام سیاسی اختلافات سے بالاتر رہنا چاہیے۔ انہوں نے اراکین پر زور دیا کہ وہ ذاتی ریمارکس سے گریز کریں اور آئین و پارلیمانی قواعد کے دائرے میں رہتے ہوئے جمہوری بحث کے ذریعے اختلافات حل کرتے رہیں۔











