اسلام آباد، 24 جون (اے پی پی): قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن ہم سب کے لیے قابل احترام ہیں، ان کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کی شخصیت اور سیاسی بصیرت کا احترام کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کی تجاویز کا مثبت انداز میں جواب دے گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ مولانا کی پوری تقریر نہیں سن سکے کیونکہ درمیان میں ایوان میں آئے، تاہم حکومت ان کے نکات کا مناسب اور جامع جواب دے گی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی تقریر کے آخری حصے میں جن امور کی نشاندہی کی، وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں اور حکومت ان پر سنجیدگی سے اپنا مؤقف پیش کرے گی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمٰن کی پیشکش کو اس انداز میں قبول نہیں کریں گے کیونکہ ان کے بقول اس سے معاملات اس نہج پر جا سکتے ہیں جہاں سے واپسی مشکل ہو جائے۔ بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت سیاسی معاملات کو افہام و تفہیم، تحمل اور مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھانے پر یقین رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تمام معاملات کو ذمہ داری اور سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور اختلافات کے باوجود مسائل کا حل آئینی اور جمہوری طریقے سے نکالنے کی خواہاں ہے۔











