پائیدار امن کے لیے امن مشنز  کے ساتھ امن سازی  بھی ضروری ہے: پاکستان

1

اقوامِ متحدہ، 25 جون ( اے پی پی):پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دیرپا امن کے قیام کے لیے صرف امن مشنز  کافی نہیں، بلکہ تنازعات کے آغاز ہی سے امن سازی  کو عمل کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ پاکستان نے کہا کہ امن مشنز سے امن سازی اور پھر قومی قیادت میں ترقی کے مرحلے تک مؤثر منتقلی کے لیے مستقل سیاسی عزم، مناسب وسائل اور بین الاقوامی برادری کی مربوط معاونت ناگزیر ہے۔

امن سازی اور پائیدار امن سے متعلق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مباحثے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ امن سازی کمیشن کے قیام کو بیس برس مکمل ہو چکے ہیں، جس کا مقصد تنازعات سے نکلنے والے ممالک کو امن کے استحکام اور دوبارہ تنازعے کی طرف جانے سے بچانے میں معاونت فراہم کرنا تھا۔

انہوں نے کہا، “آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہ امن برقرار رکھنے کے مواقع پہلے جیسے رہے ہیں اور نہ ہی امن کی تعمیر کے۔ دوسری جانب محدود ہوتے وسائل پر مقابلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم امن سازی کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے مجموعی صورتحال کا سنجیدگی اور جامع انداز میں جائزہ لیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ امن کوئی ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، جو تنازعات کی روک تھام، قیامِ امن، امن مشنز، تنازعات کے بعد بحالی اور امن سازی پر مشتمل ہوتا ہے، اور یہ تمام مراحل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور باہمی طور پر تقویت دینے والے ہیں۔

انہوں نے مصر اور سلووینیا کی سہولت کاری میں مکمل ہونے والے 2025 پیس بلڈنگ آرکیٹیکچر ریویو  کے نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قومی ملکیت ، امن سازی کمیشن اور اقوامِ متحدہ کے مرکزی اداروں کے درمیان مضبوط روابط، مؤثر فالو اَپ، اور پورے اقوامِ متحدہ کے نظام میں بہتر ہم آہنگی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ اس بنیادی مقصد پر مرکوز رہنی چاہیے کہ ممالک کو تنازعات کی روک تھام، پائیدار امن کے فروغ اور دوبارہ تنازعے میں پھنسنے سے بچانے میں مدد فراہم کی جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اس مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے تمام رکن ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان امن سازی فنڈ   کے اہم کردار کو تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے امن سازی پروگراموں سے مستفید ہونے والے ممالک کے تجربات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بروقت اور لچکدار مالی و تکنیکی معاونت زمینی سطح پر حقیقی اور مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن سازی کے لیے پائیدار مالی وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے۔ پاکستان، جو اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں فوجی دستے فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے اور امن سازی کمیشن کا بانی رکن بھی ہے، نے خود اس امر کا مشاہدہ کیا ہے کہ سلامتی میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ادارہ جاتی استحکام، مفاہمت اور سماجی و معاشی بحالی کے ساتھ جوڑنا کس قدر ضروری ہے۔

انہوں نے کہا ہم امن سازی کمیشن، خصوصاً اس کی ملک-مخصوص تشکیلوں  کے بڑھتے ہوئے کردار کو سراہتے ہیں، جو مکالمے، شراکت داری کے فروغ اور وسائل کے حصول کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہیں۔