پاکستان کی سوڈان میں شہریوں پر حملوں کی شدید مذمت، شہریوں کے فوری تحفظ اور سوڈانی قیادت میں سیاسی عمل پر زور

5

اقوامِ متحدہ، 26 جون ( اے پی پی):پاکستان نے سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز  کی جانب سے شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر مظالم کے فوری خطرے سے خبردار کیا ہے۔ پاکستان نے تشدد کے فوری خاتمے، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور سوڈانی عوام کی قیادت اور ملکیت میں جامع سیاسی عمل کو آگے بڑھانے پر زور دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں سوڈان کی صورتحال پر اجلاس سے قومی بیان دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے بگڑتی ہوئی سلامتی اور انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تین برس سے زائد عرصے سے جاری تنازعے کا سب سے زیادہ خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

مستقل مندوب نے اسکولوں، ہسپتالوں، بازاروں، عبادت گاہوں اور شہری زندگی کے لیے ناگزیر دیگر تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے خاص طور پر الابیض کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کی بڑی تعداد میں عسکری کمک، زمینی حملے کے خدشات، اور دارفور سمیت سوڈان کے دیگر علاقوں میں اندھا دھند قتل، نسلی بنیادوں پر تشدد، جنسی تشدد اور جبری نقل مکانی جیسے سنگین مظالم کا ریکارڈ شدید تشویش کا باعث ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یہ صورتحال بڑے پیمانے پر مظالم کے فوری خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے ریپڈ سپورٹ فورسز پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر الابیض پر حملے بند کرے، مزید کشیدگی سے گریز کرے، بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کرے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ انہوں نے ڈرونز اور جدید ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ، انسانی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ اور تنازعے کے مزید پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے پورے سوڈان میں ضرورت مند افراد تک محفوظ، فوری، مسلسل اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کارکنوں، قافلوں، گوداموں اور امدادی سامان پر حملے کسی صورت قابل قبول نہیں اور انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان کی خودمختاری، وحدت، علاقائی سالمیت اور قومی اداروں کا تحفظ ناگزیر ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسے کسی اقدام، طرزِ عمل یا بیان سے گریز کریں جو سوڈان کے قومی اداروں کو کمزور کرے یا متوازی عسکری یا سیاسی ڈھانچوں کے قیام کی راہ ہموار کرے، کیونکہ ایسے اقدامات مسلح گروہوں کی حوصلہ افزائی، تنازعے کے طول پکڑنے اور سوڈان کی خودمختاری اور وحدت کو نقصان پہنچانے کا باعث بنیں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سوڈان کے تنازعے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوڈان میں امن و استحکام افریقی اور عرب خطوں کے امن و سلامتی سے گہرا تعلق رکھتا ہے، اس لیے سوڈان میں استحکام کی بحالی کو عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری سمجھا جانا چاہیے۔

مستقل مندوب نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ذاتی نمائندے کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی، انسانی امداد کی فراہمی میں سہولت اور سوڈانی عوام کی قیادت اور ملکیت میں جامع سیاسی عمل کے فروغ کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سوڈان میں تنازعے کے خاتمے، شہریوں کے تحفظ، ملک کی وحدت کے تحفظ اور اسے امن، استحکام اور آئینی نظام کی جانب واپس لانے کے لیے اقوامِ متحدہ، افریقی یونین، آئی جی اے ڈی (IGAD)، عرب لیگ، کواڈ اور دیگر علاقائی شراکت داروں کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔