اقوامِ متحدہ، 30 جون (اے پی پی ): پاکستان نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے امدادی و تعمیرِ نو کے ادارے (یو این آر ڈبلیو اے) کے مینڈیٹ کے تحفظ اور اسے مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ ادارے کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے لیے خاطر خواہ، مستقل اور قابلِ پیش گوئی مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔ پاکستان نے یو این آر ڈبلیو اے کو نشانہ بنانے والی اسرائیلی قانون سازی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا اور اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان نے یو این آر ڈبلیو اے کے دفاتر پر چھاپوں اور ان پر قبضے کے اقدامات کی بھی سخت مذمت کرتے ہوئے ادارے کے مینڈیٹ اور اس کی عملی خودمختاری کو کمزور کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کر دیا۔
اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں یو این آر ڈبلیو اے کی معاونت کے لیے منعقدہ پلجنگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے بین الاقوامی قانون کے تحت یو این آر ڈبلیو اے کو حاصل مراعات اور استثنیٰ کا مکمل احترام یقینی بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران یو این آر ڈبلیو اے کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ایک ناگزیر سہارا ہے، جو انتہائی دشوار حالات میں انہیں تعلیم، صحت، امداد، تحفظ اور پناہ جیسی بنیادی خدمات فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یو این آر ڈبلیو اے محض ایک انسانی امدادی ادارہ نہیں بلکہ فلسطینی پناہ گزینوں کے حوالے سے منصفانہ اور پائیدار سیاسی حل تک بین الاقوامی برادری کی اجتماعی ذمہ داری کا عملی مظہر ہے۔
سفیر عثمان جدون نے زور دیا کہ جانیں بچانے والی امدادی خدمات انجام دینے والے انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو کبھی بھی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے موجودہ تنازعہ کے آغاز سے اب تک شہید ہونے والے 392 یو این آر ڈبلیو اے اہلکاروں کی ہلاکتوں کا احتساب کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ یو این آر ڈبلیو اے کے مینڈیٹ کو فلسطینی پناہ گزینوں کے حتمی سیاسی تصفیے کے مسئلے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق مسئلے کا حل ادارے کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسرائیلی قبضے کا خاتمہ، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کو ممکن بنانا، اور 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کو عملی شکل دینا ہے، جس میں القدس الشریف ایک آزاد اور خودمختار ریاستِ فلسطین کا دارالحکومت ہو۔
سفیر عثمان جدون نے کہا کہ یو این آر ڈبلیو اے اس وقت تقریباً 22 کروڑ امریکی ڈالر کے بجٹ خسارے کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث لاکھوں ضرورت مند فلسطینی پناہ گزینوں کو بنیادی خدمات کی فراہمی شدید خطرے سے دوچار ہے۔
انہوں نے یو این آر ڈبلیو اے کے عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیت، عزم اور انتھک خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے کے لیے مستقل، پائیدار اور بڑھتی ہوئی مالی معاونت محض ایک ضرورت نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے۔
سفیر عثمان جدون نے اعلان کیا کہ پاکستان رواں سال یو این آر ڈبلیو اے کے لیے اپنی مالی معاونت میں اضافہ کرے گا اور تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ بھی اپنی موجودہ مالی معاونت کو برقرار رکھنے کے ساتھ اسے مزید بڑھائیں۔











