پاکستان کا تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے خاتمے کے لیے مزید مؤثر عالمی اقدامات کا مطالبہ

3

اقوام متحدہ، 8 جولائی ) اے پی پی):پاکستان نے تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کی تمام اقسام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسئلہ نہ صرف مسلح تنازعات بلکہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود غیر ملکی قبضے کی تمام صورتحال میں بھی تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ عسکریت پسندی، جبری بے دخلی، من مانی حراست، حقوق سے محرومی اور احتساب کا فقدان ایسے حالات میں بالخصوص خواتین اور بچوں سمیت شہری آبادی کو مزید غیر محفوظ بنا دیتے ہیں۔

سلامتی کونسل کے تنازعات سے متعلق جنسی تشدد پر منعقدہ کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سلامتی کونسل کی جانب سے تقریباً پچیس برس قبل تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک الگ خطرہ تسلیم کیے جانے کے باوجود آج یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا عالمی برادری نے متاثرین اور بچ جانے والوں کے لیے تحفظ، انصاف اور وقار کے حوالے سے اپنے وعدوں کو عملی شکل دی ہے؟۔

انہوں نے کہا کہ تنازعات سے متعلق جنسی تشدد جنگ کا ناگزیر نتیجہ نہیں بلکہ اسے اکثر جان بوجھ کر جنگی حکمتِ عملی، دہشت پھیلانے، تشدد، جبر اور اجتماعی سزا کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اس نوعیت کے جرائم افراد کی زندگیاں تباہ کرتے ہیں، خاندانوں کو بکھیر دیتے ہیں، پوری برادریوں میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں اور نسلوں تک باقی رہنے والے گہرے زخم چھوڑ جاتے ہیں، جن میں تنازعات کے دوران زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ احتساب کو جامع اور مستقل بنیادوں پر مضبوط بنایا جائے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے متاثرین اور بچ جانے والوں کو بروقت اور جامع معاونت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں طبی سہولیات، نفسیاتی و سماجی معاونت، قانونی امداد، روزگار کے مواقع اور ازالے کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ وہ اپنی زندگیوں کی بحالی اور اپنے وقار کی بازیابی ممکن بنا سکیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے تحفظ سے متعلق نظام کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ خواتین کے تحفظ کے مشیر(ویمنز پروٹیکشن ایڈوائزرز) نگرانی، رپورٹنگ، قبل از وقت انتباہ اور تنازع کے فریقین سے رابطوں میں ناگزیر کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تعیناتی تمام متعلقہ حالات میں، بالخصوص امن مشنز کی منتقلی یا انخلا کے دوران، یقینی بنائی جانی چاہیے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر احتساب کو یقینی بنانے، متاثرین اور بچ جانے والوں کے وقار کے تحفظ اور اس امر کے لیے کام جاری رکھے گا کہ تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کا جواب خاموشی یا امتیازی رویے سے نہیں بلکہ تحفظ، احتساب اور انصاف کی صورت میں دیا جائے۔