افغان طالبان کے خلاف قانونی چارہ جوئی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمہ تیار

4

اسلام آباد،16 جولائی (اے پی پی):اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز نے افغان طالبان کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں دائر کیے جانے والے قانونی مقدمے کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔

قانونی کیس کے تحت افغان طالبان کو خواتین کے حقوق کے کنونشن 2003 کی سنگین خلاف ورزیوں پر کٹہرے میں لایا جائے گا۔

آسٹریلوی تھنک ٹینک دی اسٹریٹجسٹ میں شائع مضمون میں اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کی صدر بنائیفر نوروجی کے مطابق اگست 2021 میں اتحادی افواج کے انخلا کے بعد سے طالبان اب تک خواتین کے خلاف 100 سے زائد غیرقانونی احکامات جاری کر چکے ہیں۔ افغان خواتین پر محرم کے بغیر باہر نکلنے، نوکری کرنے اور چھٹی جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے پر سخت پابندی ہے۔

 اقوام متحدہ اور اراکین یورپی پارلیمنٹ افغانستان کی اس سنگین صورتحال کو باقاعدہ “صنفی امتیاز” قرار دے چکے ہیں۔ آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی اور نیدر لینڈز کے ستمبر 2024 کے قانونی نوٹس کے بعد یہ کیس افغان طالبان پر دباؤ ڈالنے کا اہم ذریعہ ہوگا۔

اقوام متحدہ کی قانونی چارہ جوئی اور مستقل عالمی دباؤ، افغان خواتین کے حقوق کی بحالی اور ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کا فیصلہ کن ہتھیار ہیں۔عالمی ماہرین کے مطابق افغانستان میں نافذ سخت گیر قوانین نے عام عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے، جہاں خواتین اور لڑکیاں بنیادی حقوق سے مکمل محروم ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت انصاف میں طالبان رجیم کے خلاف قانونی چارہ جوئی جہاں ان پر سیاسی و سفارتی دباؤ بڑھائے گی، وہیں افغان رجیم کی عالمی ساکھ کو مزید نقصان پہنچائے گی۔