اسلام آباد، 16 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے بورڈ آف گورنرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بورڈ کے تمام اراکین کو خوش آمدید کہتے ہیں اور قومی ادارہ صحت ہمارے نظام صحت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی ادارہ صحت وبائی امراض سے نمٹنے، تشخیص، تحقیق، تربیت اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کو صحت کے شعبے میں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ متعدی اور غیر متعدی امراض کا بوجھ بھی روز بروز بڑھ رہا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزارت صحت میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی گئی ہیں اور لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانے کے لیے عملی اقدامات ان کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کا فروغ ان کی اولین ترجیح ہے۔وفاقی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ بیماریوں کے خطرات کی بروقت نشاندہی کے لیے رئیل ٹائم نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ویکسین کی مقامی تیاری اور معیار کے عمل کو فروغ دے کر ویکسین سکیورٹی کے قومی ہدف کا حصول یقینی بنایا جائے۔انہوں نے قومی ادارہ صحت پر زور دیا کہ وہ صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطہ کاری کو مضبوط بنائے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بطور اراکینِ بورڈ آپ کے کندھوں پر بڑی ذمہ داری ہے اور آپ کے اقدامات و فیصلے براہ راست کروڑوں پاکستانیوں کی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزارت صحت پاکستان قومی ادارہ صحت کو اس کے مینڈیٹ کی تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ قومی ادارہ صحت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔









