سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے پیٹرولیم کا گیس فیلڈز کے 5 کلومیٹر کے دائرے میں واقع علاقوں کی گیسیفیکیشن سے متعلق سپریم کورٹ اور وزیراعظم کی ہدایات پر فوری عملد درآمد کا مطالبہ

7

اسلام آباد، 21 جولائی (اے پی پی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں کنوینر سینیٹر جام سیف اللہ خان دھاریجو کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں گیس پیدا کرنے والے علاقوں بالخصوص ضلع گھوٹکی کی گیسیفیکیشن کے احکامات پر دو دہائیوں سے زائد تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس کے دوران 10 ستمبر 2020 کی وزیراعظم کی ہدایات اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد میں مسلسل تاخیر کا جائزہ لیا گیا۔ کنوینر جام سیف اللہ خان نے کہا کہ گھوٹکی جیسے بڑے اور گنجان آباد گیس پیدا کرنے والے ضلع کو ابھی تک مکمل گیس فراہم نہ کرنا افسوسناک ہے۔ ذیلی کمیٹی نے اس تاخیر کی وجوہات کا تعین کرنے اور ذمہ دار حکام کا تعاقب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس میں پیش رفت کے حوالے سے بتایا گیا کہ 17 جولائی 2026 کو ہونے والے اجلاس کے سلسلے میں وزارتِ خزانہ نے گیسیفیکیشن پروگرام کے لیے مرحلہ وار ایک بلین روپے گرانٹ کی صورت میں فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ ضلع گھوٹکی کے نشاندہی شدہ علاقوں کے لیے 670 ملین روپے درکار ہوں گے۔ پیٹرولیم ڈویژن آئندہ اجلاس میں فنڈنگ اور اس پر عمل درآمد کا حتمی طریقہ کار پیش کرے گا۔

ذیلی کمیٹی نے ڈی جی (گیس) کی جانب سے متضاد اور گمراہ کن معلومات کی فراہمی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے کو سینیٹ کی کمیٹی برائے استحقاق کو بھیجنے کا فیصلہ کیا، تاہم سپیشل سیکرٹری پیٹرولیم کی جانب سے مستقبل میں درست اور مستند ریکارڈ کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی گئی۔ علاوہ ازیں، چیئرمین اوگرا کی غیر حاضری کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کابینہ ڈویژن کو خط لکھنے اور آئندہ اجلاس میں ان کی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔

ڈپٹی کمشنر گھوٹکی کی رپورٹ کے مطابق نشاندہی شدہ 57 میں سے 42 دیہات گیس فیلڈز کے 5 کلومیٹر کے دائرے میں آتے ہیں، جنہیں پہلے مرحلے میں ترجیحی بنیادوں پر گیس فراہم کی جائے گی۔