اسلام آباد، 23 جولائی (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے اور ان کا حجم 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم نے اس نمایاں کامیابی پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ان کی پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے کی جانے والی پالیسیوں اور اقدامات کا ثمر ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کو ترقی دینا اور اس سے وابستہ برآمدات میں اضافہ کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے میں فراہم کیے جانے والے تمام تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یعنی غیر جانبدارانہ جانچ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور نوجوانوں کی تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید مستحکم اور بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی جانب سے وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکی ہے، جس سے ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 تک 72 فیصد ہو چکا ہے جبکہ 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ اور فائبر کنکشنز فراہم کیے جا چکے ہیں۔
حکومتی اقدامات کی بدولت گزشتہ مالی سال آئی ٹی کی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین امریکی ڈالر رہا، جبکہ “ڈیجیٹل نیشن پاکستان” وژن کے تحت حکومتِ پاکستان کی 130 خدمات کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے۔ بریفنگ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیے گئے جن میں 5,053 ہائی اینڈ اور 2,700 لیڈرشپ و سافٹ اسکلز پروگرامز شامل تھے۔ مزید برآں، آزاد جموں و کشمیر کے علاقے باغ میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ “کنیکٹ پاکستان وژن 2030” اور “ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب” کے منصوبوں کا جلد افتتاح کیا جائے گا۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ چینی تکنیکی کمپنی علی بابا کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت وفاقی حکومت کی متعدد اہم وزارتوں اور اداروں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کے نفاذ کے لیے منصوبے اور تربیتی سیشنز جاری ہیں۔ علی بابا اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، پاکستان پوسٹ، سی ڈی اے، وزارت بحری امور، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور وزارتِ قومی غذائی تحفظ میں اے آئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ، وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ متعلقہ سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔











