سلامتی کونسل: پاکستان کا بھارت کو منہ توڑ جواب، مقبوضہ کشمیر کو اپنا ‘اٹوٹ انگ’ قرار دینے کا بھارتی دعویٰ اور بے بنیاد الزامات مسترد

7

نیویارک، 24 جولائی ( اے پی پی): اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پُرامن حل اور قرارداد 2788 کے تناظر میں ہونے والے مباحثے کے دوران پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم اور پاکستانی مندوبین نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وفد نے حقائق مسخ کر کے اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے بحث کو متاثر کرنے کی ناکام کوشش کی ہے، حالانکہ بھارت خود بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی وفد نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا نام نہاد ‘اٹوٹ انگ’ یا داخلی معاملہ ہرگز نہیں ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی معیاد کبھی ختم نہیں ہوتی، جب کہ غیر قانونی طور پر مقبوضہ وادی میں بھارتی جبر اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ، سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بھارتی فیصلے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور 24 کروڑ پاکستانیوں کی زیست پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پانی کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

 پاکستانی نمائندوں نے کلبھوشن یادیو کیس اور ہندوتوا نظریے کے تحت بڑھتے ہوئے ریاستی اسلاموفوبیا کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی برادری کو بھارتی دہشت گرد نیٹ ورکس سے آگاہ کیا اور زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا واحد راستہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بالخصوص قرارداد 2788 کی پاسداری میں ہی پنہاں ہے۔