اسلام آباد، 28 جولائی (اے پی پی ): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تمام اداروں کو رواں مون سون کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کےلئے ہر دم تیار رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ این ڈی ایم اے تمام اداروں کے تعاون سے مون سون کے جاری سپیل میں جانی و مالی نقصان کو روکنا یقینی بنائے۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار منگل کو اپنی زیر صدارت ملک میں جاری مون سون بارشوں اور ان کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پر جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے، تمام ادارے جاری مون سون کے نتیجے میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کےلئے ہر دم تیار رہیں۔ ا ن کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے تمام وفاقی و صوبائی اداروں کو مون سون کی صورتحال اور متوقع بارشوں کی اطلاعات بروقت فراہم کرے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی روزانہ کی بنیاد پر فلڈ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں اور صورتحال کے جائزے کے بعد لائحہ عمل طے کریں۔ وزیراعظم نے شمالی علاقہ جات میں گلوف و طوفانی ریلوں کے حوالے سے پیشگی اطلاعات کے نظام کو بھرپور طریقے سے فعال رکھنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ماحول دشمن گیسوں کے اخراج میں حصہ معمولی ہے مگر موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات اسے بری طرح متاثر کر رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات کے پیش نظر حکومت طویل، وسط اور قلیل مدتی اقدامات پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے حکم دیا کہ این ڈی ایم اے تمام اداروں کے تعاون سے یہ یقینی بنائے کہ مون سون کے جاری سپیل میں جانی و مالی نقصان کو روکا جائے۔ اجلاس کو این ڈی ایم اے، گلگت بلتستان و آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے حالیہ مون سون اور اس کے نتیجے میں نقصانات، ریسکیو و بحالی کے اقدامات بارے بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ این ڈی ایم اے ملک کے شمالی علاقوں میں مون سون سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال اور سندھ و بلوچستان میں جاری گرمی کی شدید لہر کے حوالے سے صوبائی حکومتوں و اداروں کو تمام تر معاونت و وسائل فراہم کر رہا ہے، آئندہ دو روز میں آزاد کشمیر و گلگت بلتستان اور جنوبی سندھ میں مون سون بارشوں کے ایک بڑے سپیل کی توقع ہے، اس کے علاوہ ستمبر کے دوسرے ہفتے سے ملک بھر میں مون سون کا ایک بڑا سپیل بھی متوقع ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کردہ فلڈ کمیٹی کا اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہو رہا ہے جس میں تمام متعلقہ ادارے موجودہ صورتحال پر کڑی نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ریسکیو و ریلیف اور بحالی کے اقدامات کا جامع لائحہ عمل مرتب کرکے اس کا نفاذ یقینی بنا رہے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ مون سون سپیل میں اب تک 110 اموات ، 360 لوگ زخمی ہوئے، 796 مکانات کو نقصان پہنچا اور 376 مویشی ہلاک ہوئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی سطح پر جاری ایل-نینو (El-Nino) کی وجہ سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں موجود گلیشیئرز کے پگھلنے کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے آئندہ ایک ماہ میں گلوف و سیلابی ریلوں کا خطرہ لاحق ہے، ممکنہ طور پر متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کرکے تمام تر حفاظتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وسطی پنجاب بشمول لاہور میں شہری سیلابی صورتحال پر قابو پانے کےلئے فوری اقدامات اٹھائے گئے جبکہ کچھ علاقوں میں برساتی نالوں میں سیلابی ریلوں کی وجہ سے زرعی زمین زیر آب ہے جس سے نکاسی کا کام جاری ہے، ڈیرہ غازی خان اور اس ملحقہ علاقوں میں بھی سیلابی ریلوں کی صورتحال اس وقت قابو میں ہے۔ اجلاس کو این ایچ اے کی جانب سے مٹی کے تودے گرنے سے سڑکوں کی بندش اور ان کی بحالی بارے بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 106 مقامات پر سڑکوں کی بندش کو بروقت اقدامات سے بحال کر دیا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزارت آئی ٹی کی جانب سے نیشنل ایمرجنسی و ٹیلی کمیونیکیشن سینٹر فعال ہے، کسی بھی موبائل فون سے ہنگامی صورتحال میں مدد کی کال پر فوری طور پر ریسکیو 1122 فعال ہوکر ریسکیو و ریلیف اقدامات کےلئے موقع پر پہنچتی ہے۔ دریں اثناء وزیر اعظم کو بریفننگ میں بتایا گیا کہ مون سون کے دوران برساتی پانی کو سٹور کرنے کے لئے ملک کے مختلف مقامات پر 700 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ خشک موسم کے دوران وہ پانی زراعت کے لئے استعمال کیا جاسکے۔ وزیراعظم نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز، صوبائی حکومتوں اور تمام متعلقہ اداروں کی حالیہ مون سون کی پیشگی اطلاعات، تیاری اور ریسکیو و ریلیف کے اقدامات پر پذیرائی کی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، پروفیسر احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، رانا تنویر حسین، محمد اورنگزیب، انجینئر امیر مقام، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، سردار اویس خان لغاری، میاں محمد معین وٹو، مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔











