اقتصادی تعاون سے پاک-امریکا تجارت 20 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے،نائب وزیراعظم

3

اسلام آباد،28جولائی  (اے پی پی):نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے امریکی کاروباری اداروں کو پاکستان میں بہتر سرمایہ کاری کی فضا   سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک بہتر اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے ذریعے آئندہ پانچ برسوں میں باہمی تجارت کو بڑھا کر 20 ارب ڈالر تک لے جا سکتے ہیں۔

منگل کو یہاں وزارتِ خارجہ میں امریکی کانگریس کے ایک وفد اور اعلیٰ سطح کے امریکی کاروباری وفد سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ اپنی دیرینہ تزویراتی اور اقتصادی شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور تجارت، سرمایہ کاری اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے پُرعزم ہے۔

وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور پاک-امریکا تعلقات میں مثبت پیش رفت کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا بالترتیب دنیا کی پانچویں اور تیسری بڑی آبادیاں   ہیں اور وہ ایک دوسرے کی اقتصادی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے باہمی مفاد پر مبنی مضبوط شراکت داری قائم کرنے کی بے پناہ استعداد رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کی برآمدات کے لئے سب سے بڑی واحد منڈی ہے، گزشتہ مالی سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 9.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔  نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایسی منصفانہ، متوازن اور باہمی مفاد پر مبنی تجارت پر یقین رکھتا ہے جو دونوں معیشتوں کے لئے قدر پیدا کرے اور دونوں ممالک کے عوام کی مشترکہ خوشحالی کا باعث بنے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا سے کپاس اور سویابین درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے جس سے امریکی کسانوں کو فائدہ پہنچتا ہے جبکہ پاکستان امریکی ہائیڈروکاربن مصنوعات کی ایک اہم منڈی کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں جدید مشینری، ٹیکنالوجی اور دیگر سامان کی بڑھتی ہوئی طلب امریکی صنعت کاروں کے لئے نمایاں مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معروف امریکی کمپنیاں پاکستان میں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، اہم معدنیات، توانائی، دفاع اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جاری اصلاحات اور امریکاکی مسابقتی ٹیرف پالیسی نے بھی ملک کو سرمایہ کاری کے لئے مزید پرکشش بنادیا ہے۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ون ونڈو پلیٹ فارم ہے جو سرمایہ کاروں کو تمام ضروری منظوریوں کے عمل کو آسان بنانے اور حکومتی اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے ذریعے سہولت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے امریکی کاروباری رہنماؤں کو ترغیب دی کہ وہ ایس آئی ایف سی کے ساتھ اپنا رابطہ برقرار رکھیں تاکہ دستیاب مواقع کو طویل المدتی تجارتی شراکت داری میں تبدیل کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان امریکی حکومت، کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ تعمیری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے پُرعزم ہے تاکہ اشیا اور خدمات، بالخصوص آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، توانائی، مینوفیکچرنگ، اہم معدنیات، زراعت اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکی سرمایہ کاری میں اضافے کے لئے خصوصی اقتصادی زونز اور ٹیکنالوجی پارکس سمیت مسابقتی مراعات فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔ نائب وزیراعظم نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک، امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن اور امریکی ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ ایجنسی دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی اقتصادی تبدیلی کا شراکت دار بننے کی دعوت دیتے ہوئے یقین دلایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ان کی طویل المدتی کامیابی کے لئے ہر ممکن سہولت فراہم کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں پاکستان کا سفارتخانہ اور امریکا بھر میں قائم پاکستانی قونصل خانے امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے متعلقہ اداروں سے رابطے میں معاونت فراہم کرتے رہیں گے۔ دوطرفہ تعلقات کے وسیع تناظر پر روشنی ڈالتے ہوئے محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور امریکا پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ مقصد کے لئے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے حل اور علاقائی امن کے قیام کے لئے بات چیت اور سفارتکاری کو ہی واحد پائیدار راستہ سمجھتا ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان نے عالمی سفارتی سطح پر اپنی مثبت شناخت کو مضبوط بنایا ہے اور آج اسے ایک ذمہ دار امن پسند ملک کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے جو علاقائی اور عالمی استحکام میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکی کاروباری وفد کے ارکان پر زور دیا کہ وہ امریکا میں پاکستان کے مثبت تشخص کے سفیر کا کردار ادا کریں اور امریکی کاروباری برادری کے سامنے پاکستان کی وسیع اقتصادی صلاحیتوں اور سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرنے میں فعال کردار ادا کریں۔