اسلام آباد، 10 اگست ( اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایف بی آر میں جاری اصلاحات پر عملدرآمد مزید تیز کرنے اور مقررہ ریونیو ہدف کے حصول کے لیے انفورسمنٹ اقدامات مؤثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم نے ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کاروباری برادری کے جاری ٹیکس اصلاحات پر بڑھتے اعتماد کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ چیئرمین ایف بی آر اور سینئر افسران ہر ماہ کراچی کے ساتھ لاہور میں بھی دو روز قیام کریں اور کاروباری برادری کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کریں۔
وزیراعظم نے ایف بی آر کو اسمگلنگ، ٹیکس چوری اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف مؤثر انفورسمنٹ جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے چکوال اور صوابی میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف ایف بی آر کی کارروائیوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے ایف بی آر کے تمام حساس عہدوں اور محکموں میں اچھی شہرت اور دیانت داری کے حامل افسران و اہلکاروں کی تعیناتی کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس کو ان لینڈ ریونیو کے لیے مجوزہ فیس لیس نظام پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے نظام کی بروقت تکمیل اور 2027 تک اس کے مکمل رول آؤٹ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیس لیس ان لینڈ ریونیو نظام کا پہلا مرحلہ یکم اکتوبر 2026 سے فعال ہوگا۔
بریفنگ کے مطابق اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی فیس لیس نظام ایف بی آر کی حالیہ ڈیجیٹائزیشن اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔ اس میں ٹیکس گوشواروں کے آڈٹ کے لیے نیشنل فیس لیس آڈٹ ونگ اور اسیسمینٹ کے لیے فیس لیس اسیسمینٹ یونٹ شامل ہوں گے۔ ٹیکس کیسز کا دائرہ اختیار جغرافیائی حدود سے قطع نظر رینڈم بنیادوں پر مختص کیا جائے گا۔
چیئرمین ایف بی آر نے وزیراعظم کو کراچی میں کاروباری برادری سے ملاقاتوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے سات بڑے تجارتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کے مسائل سنے۔ ان کے مطابق کراچی میں قیام کے دوران کاروباری برادری کو درپیش مسائل فوری طور پر حل کیے گئے۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ برآمد کنندگان کے ٹیکس ریفنڈز کے لیے ٹائم باؤنڈ ایس او پیز جاری کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ چکوال میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹری کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے فیکٹری سیل کر دی گئی، جبکہ غیر قانونی سگریٹ کا ذخیرہ اور مشینری قبضے میں لے لی گئی۔ صوابی میں بھی غیر قانونی سگریٹ فیکٹری کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔











