موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں مستقل حقیقت بن چکی ہے،  وزیر مملکت ڈاکٹر مختار بھرتھ

6

اسلام آباد، 11 اگست (اے پی پی): وزیر مملکت صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے موسمیاتی رجحانات کے جائزے سے واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے، ملک کو شدید مون سون، غیر معمولی بارشوں، کلاؤڈ برسٹ، سیلاب اور دیگر موسمیاتی آفات کا سامنا ہے، جن کے براہ راست اثرات آبادی اور صحت کے نظام پر مرتب ہو رہے ہیں۔

نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی کی تیاریوں اور رسپانس کے سلسلے میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں ذہنی طور پر تسلیم کرنا ہوگا کہ موسمیاتی تبدیلی کا نیا پیٹرن پاکستان کے مختلف علاقوں میں واضح طور پر جڑ پکڑ چکا ہے، لہٰذا صرف ہنگامی صورتحال پیدا ہونے کے بعد ردعمل دینا کافی نہیں، بلکہ پریپئرڈنس، رسپانس اور ریکوری کے حوالے سے جامع اور مستقل نظام وضع کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہر سال بڑی تعداد میں لوگ موسمیاتی آفات کے باعث بے گھر اور نقل مکانی پر مجبور ہوتے ہیں، ایسے حالات میں ملیریا، ڈینگی، ہیضہ، اسہال اور دیگر وبائی و متعدی امراض کے پھیلاؤ کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، جبکہ حاملہ خواتین، بچوں، بزرگوں اور دیگر کمزور طبقات کو خصوصی صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ وزارت صحت، صوبائی محکمہ ہائے صحت، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، بین الاقوامی ترقیاتی و امدادی اداروں اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کو مل کر واضح اور عملی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) تیار کرنا ہوں گے۔ ان(ایس او پیز) میں واضح ہونا چاہیے کہ کسی بھی آفت یا بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی صورت میں صحت کے شعبے کا ردعمل کس سطح پر، کس ادارے کے ذریعے اور کس طریقہ کار کے تحت ہوگا۔

وزیر مملکت نے کہا کہ اس پورے نظام میں سب سے اہم عنصر ایک تربیت یافتہ اور مؤثر ہیلتھ ورک فورس کی تیاری ہے، ہر ضلع کی ہیلتھ فورس کو موسمیاتی آفات، وبائی امراض، ہنگامی طبی امداد، متاثرہ آبادی کی ضروریات اور عارضی کیمپوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے مناسب تربیت دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ سسٹم کو اس پورے منصوبے کا بنیادی ستون بنانا ہوگا، جب تک تمام اضلاع کو اس عمل میں شامل نہیں کیا جائے گا اور ضلعی سطح پر موجود ہیلتھ ورک فورس کی باقاعدہ تربیت اور استعداد کار میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، تب تک مؤثر اور بروقت رسپانس ممکن نہیں ہوگا۔

ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے موسمیاتی اور قدرتی آفات کے الرٹس کو صحت کے شعبے کی پیشگی تیاری کے ساتھ مربوط کرنا ہوگا، الرٹ جاری ہوتے ہی متعلقہ اضلاع میں صحت کی ٹیموں، ادویات، ضروری طبی سامان اور دیگر وسائل کی بروقت دستیابی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور وزارت صحت کا کردار پالیسی سازی، قومی سطح پر رابطہ کاری، معیارات کے تعین اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پرلانے میں اہم ہے، تاہم اس نظام کو عملی طور پر کامیاب بنانے کیلئے صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کا مؤثر کردار ناگزیر ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ کانفرنس کے بعد چند واضح اقدامات کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانا چاہیے، جن میں ہیلتھ ورک فورس کی تربیت، ڈیزاسٹر کے دوران صحت کی خدمات کی فراہمی کے لیے ایس او پیز کی تیاری، متاثرہ اور بے گھر آبادی کی منتقلی سے لے کر بحالی اور آبادکاری تک صحت کے تمام مراحل کے لیے واضح پروٹوکولز اور کمزور طبقات خصوصاً حاملہ خواتین، بچوں اور دیگر حساس گروہوں کے لیے خصوصی انتظامات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ، بین الاقوامی شراکت داروں، امدادی اداروں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ایک مشترکہ فریم ورک کے تحت کام کرنا ہوگا تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے آبادی کو مؤثر طور پر محفوظ رکھا جا سکے۔