لاہور، 17 اگست (اے پی پی): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی سے متعلق مسلسل پانچواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں چکوال، راولپنڈی، راجن پور، فیصل آباد، مری اور اٹک میں واٹر سپلائی پائپ لائن پراجیکٹس کا جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام اور ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آبادی کے تناسب سے پانی کی ضرورت کا مستند ڈیٹا مرتب اور اس کی تصدیق کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے راجن پور میں فوری طور پر 21 واٹر باؤزر فراہم کرنے اور مری میں پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے واٹر ٹینک مہیا کرنے کا حکم دیا، جبکہ مری میں نئے واٹر سورس پر کام کرنے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ چکوال میں 32 واٹر فلٹریشن پلانٹس موجود جبکہ 237 زیر تعمیر ہیں۔ پانی کی قلت کے شکار آٹھ دیہات میں ترجیحی بنیادوں پر واٹر سپلائی فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ راولپنڈی میں 246 فلٹریشن پلانٹس موجود ہیں جبکہ مزید 252 لگائے جائیں گے۔
بریفنگ کے مطابق اٹک میں 77 واٹر فلٹریشن پلانٹس موجود اور 399 زیر تکمیل ہیں، جبکہ راجن پور میں 146 پلانٹس موجود اور 191 زیر تکمیل ہیں۔ راجن پور، جام پور، چک شگاری اور داجل میں واٹر سپلائی پائلٹ پراجیکٹ کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔
فیصل آباد میں 343 واٹر فلٹریشن پلانٹس اور چار سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس موجود ہیں جبکہ 180 فلٹریشن پلانٹس زیر تکمیل ہیں۔ چک جھمرہ اور فیصل آباد کے مضافاتی علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کے پائلٹ پراجیکٹ پر بھی اتفاق کیا گیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کے عوام کو پینے کا صاف پانی گھر گھر پہنچانا حکومت کا غیر متزلزل عزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن علاقوں کے لوگ آج بھی کندھے پر پانی اٹھا کر لانے پر مجبور ہیں، انہیں ترجیحی بنیادوں پر صاف پانی فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پورے پنجاب میں پانی کی فراہمی اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں کیونکہ عوام کی خدمت ان کا فرض ہے۔











