پاکستان کا سوڈان کی بگڑتی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مسلسل عالمی اقدامات پر زور

4

اقوام متحدہ، 24 اگست (اے پی پی): :پاکستان نے سوڈان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مسلسل رابطہ کاری، تعاون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار حل کی جانب پیش رفت کے لیے سوڈانی قیادت میں اور سوڈانی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

سوڈان کی صورتحال، بالخصوص دارفور، کردفان اور بلیو نائل میں جاری بحران کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے العبید کی صورتحال پر خصوصی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کا جارحانہ عسکری طرزِ عمل اور مزید کشیدگی کا خطرہ دارفور، بالخصوص الجنینہ اور الفاشر میں ہونے والے بڑے پیمانے پر مظالم کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ ایک پُرامن، مستحکم اور متحد سوڈان پورے افریقہ کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل لڑائی، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور بگڑتا ہوا انسانی بحران خطے کے استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’بدقسمتی سے سوڈان گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل تنازعات کی لپیٹ میں ہے، اور اس تنازع کا حالیہ سلسلہ اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہو رہا ہے، جس کے تباہ کن نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اس کی سب سے بھاری قیمت بدستور عام شہری ادا کر رہے ہیں۔‘‘

عام شہریوں اور شہری تنصیبات پر تمام حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سفیر نے سلامتی کونسل اور عالمی برادری پر زور دیا کہ ضرورت مند افراد تک محفوظ، فوری اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی رسائی یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے کہا، ’’سلامتی کونسل اور عالمی برادری اس وقت خاموش تماشائی نہیں بن سکتے جب ایک اور شہر اور مزید شہری ایسے مظالم کا نشانہ بن رہے ہوں۔پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں، اور واضح کیا کہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے جبکہ انسانی امداد فراہم کرنے والے کارکنوں کو بغیر کسی رکاوٹ یا مداخلت کے محفوظ ماحول میں اپنی جان بچانے والی خدمات انجام دینے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے جدہ اعلامیے کے تحت کیے گئے وعدے بدستور مؤثر ہیں اور سلامتی کونسل کو ان پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرنا چاہیے۔سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ، انسانی امدادی اداروں اور سوڈانی حکومت کے درمیان مسلسل تعاون کی بھی حوصلہ افزائی کی تاکہ انسانی بحران سے متعلق چیلنجز سے نمٹا جا سکے اور فوری توجہ کے متقاضی مالی وسائل کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’کونسل کو ایک خودمختار ریاست کے قومی مسلح افواج اور ایک ایسی ملیشیا کے درمیان فرق برقرار رکھنا چاہیے جس پر بڑے پیمانے پر مظالم اور نسل کشی پر مبنی تشدد کے الزامات عائد ہیں۔‘‘

پاکستان نے مزید کہا کہ سوڈان کے عوام ایک پُرامن سیاسی تصفیے کی جانب بڑھنے کے مستحق ہیں۔ پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ سوڈان کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ اس کے قومی اداروں کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرے۔