سرکار دوعالم ﷺ کے یوم ولادت کی تقریبات کے سلسلہ میں وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام” محفل نعت رسول مقبول ” کا انعقاد

9

اسلام آباد،25اگست  (اے پی پی):سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت کی تقریبات کے سلسلہ میں وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام” محفل نعت رسول مقبول “صلی اللہ علیہ وسلم منگل اور بدھ کی درمیانی شب پی این سی اے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی ۔ جس میں ملک بھر سے 16سے زائد ممتاز ثناخوان مصطفیٰ نے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں ہدیہ نعت پیش کی ۔ محفل نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم میں مہمان خصوصی چیف جسٹس، فیڈرل شریعت کورٹ جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور شاہ تھے اور  وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، پارلیمانی سیکرٹری مذہبی امور سردار شمشیر علی خان مزاری، سیکرٹری مذہبی امور ابرار احمد مرزا، پاکستان علما کونسل کے چیئرمین  حافظ طاہر محمود اشرفی ،ملک کے معروف ثناخواں اور زندگی کے مختلف شعبوں سےتعلق رکھنے والے خواتین و حضرات اور دیگر شخصیات موجود تھیں ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ جسٹس ڈاکٹر انور شاہ نے کہا کہ اس پرنور اور بابرکت محفل میں شرکت ان کے لئے باعث سعادت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری سطح پر محفل نعت سے انہیں یہ محسوس ہوا ہے جیسے قیام پاکستان کا مقصد پورا ہو گیا ہے ۔ جب یہ نعرہ لگایا جاتا ہے کہ “پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ ” اس کے ساتھ یہ بھی نعرہ ہونا چاہئے کہ” پاکستان کا مقصد کیا محمد الرسول اللہ “۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تاقیامت قائم رہے گا کیونکہ اس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوتا رہے گا۔ یہ ملک جس طرح وجود میں آیا ہے ہمیں اس کا تحفظ بھی ویسے ہی کرنا ہوگا ۔ قبل ازیں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اپنے خطبہ  استقبالیہ میں محفل نعت کے تمام شرکاء  کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرنے اور سالانہ مقابلہ کتب سیرتؐ ، نعت و مقالات میں جیتنے والے مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے  کتب سیرت و نعت اور سیرت  تحقیقی مقالہ جات کے انعام یافگان کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ہماری لیے سعادت و خوش بختی کی بات ہے کہ عظیم ہستی کی مدحت کے لیے  جمع ہیں۔  محبت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایمان کا تقاضا ہے۔  آنحضور ﷺ کی پوری زندگی عفو درگزر کا نمونہ رہی۔ ہمیں چاہیے کے آنحضور ﷺ کے بہترین اخلاق کی پیروی کریں۔ ہماری زبانوں پر نعت جبکہ دل میں سیرت طیبہ کی پیروی کا جذبہ ہونا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر منفی رجحانات، عدم برداشت ، مادہ پرستی جیسے رحجانات ہماری نئی نسل پر اثر انداز ہو رہی ہے اس لئے سیرت طیبہ ؐکے ذریعہ ہم انہیں صراط مستقیم کی طرف لا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی  نواجوان نسل کی تربیت سیرت طیبہ ؐ کی روشنی میں کرنا ہو گی۔ معاشرے میں اخوت ، ایثار قربانی کا جذبہ عفو و درگزر کو سیرت طیبہؐ  کی روشنی میں فروغ دینا ہوگا ۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ ہمیں رسول اکرمؐ  کی سچی محبت عطا فرمائے ۔ تقریب کے آخر میں مہمان خصوصی فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس ڈاکٹر محمد انور شاہ نے قومی مقابلہ کتب سیرت ، کتب نعت اور مقالات سیرت میں اول دوم اور سوم  قرار پانے والوں میں انعامات تقسیم کئے ۔