سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس، ارکان پارلیمنٹ کے پاسپورٹ، سی ڈی اے معاملات، پانی کی قلت اور امن و امان کی صورتحال پر اہم فیصلے

3

اسلام آباد،31اگست  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں دارالحکومت کے بلدیاتی ڈھانچے، عوامی تحفظ، امن و امان، سیکیورٹی پالیسیوں اور عوامی اہمیت کے مختلف معاملات پر تفصیلی بریفنگ لی گئی اور متعدد ہدایات جاری کی گئیں۔اجلاس کے دوران سینیٹر عابد شیر علی نے ارکان پارلیمنٹ کے سرکاری پاسپورٹ کے لیے وزارت داخلہ سے این او سی کی شرط کا قانونی جواز پوچھا جس پر ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس نے واضح کیا کہ موجودہ قانون کے تحت ایسی کوئی پابندی عائد نہیں ہے اور پاسپورٹ کیٹیگریز پر تفصیلی رپورٹ ترجیحی بنیادوں پر کمیٹی کو پیش کی جائے گی۔ کمیٹی نے نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑیوں سے متعلق ایف بی آر کا ایجنڈا اور ذیلی کمیٹی کی رپورٹ آئندہ اجلاس تک موخر کر دی۔سیکٹر I-10/4 میں مکان نمبر 622 کی گمشدہ فائل اور پلاٹ کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے معاملے پر چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ داخلی انکوائری جاری ہے، اور معاملہ ایف آئی اے اور عدالت میں زیر سماعت ہے۔ کمیٹی نے ایف آئی اے کو آئندہ اجلاس میں جامع تفتیشی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ علاوہ ازیں دارالحکومت کی عوامی عمارتوں کے جامع فائر سیفٹی آڈٹ، پانی کی کمی دور کرنے کے لیے تربیلا ڈیم منصوبے، بارانی پانی کے ذخیرے اور ویسٹ واٹر مینجمنٹ پر بھی غور کیا گیا۔سینیٹر قرۃ العین مری کی نشاندہی پر کمیٹی نے سی ڈی اے اور وزارت داخلہ کو ورکنگ خواتین کے لیے تجارتی و رہائشی مقامات پر ڈے کیئر سینٹرز قائم کرنے سے متعلق 2022 کے ایکٹ پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کی۔ سی ڈی اے کی پیڈ پارکنگ کے ذریعے 65 کروڑ روپے کی آمدن اور انڈر گراؤنڈ کمرشل پارکنگ کے مسائل پر بھی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر جامع لائحہ عمل طلب کیا گیا۔ خطیبوں اور آئمہ کی سفارشات اور ڈیلی ویجز ملازمین کے مستقل حل کے لیے بھی پالیسی گائیڈ لائنز طلب کی گئیں۔سکیورٹی امور پر وزارت داخلہ نے بتایا کہ ملک بھر میں کیو آر کوڈ والے 1,800 فعال ٹنٹڈ گلاس پرمٹس جاری ہیں جبکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سابق فاٹا میں بزنس کیٹیگری اسلحہ لائسنس کے طریقہ کار پر بریفنگ دی گئی۔ نادرا حکام نے افغان شہریوں کی ویزا کلیئرنس پر بریفنگ دی جبکہ مانسہرہ میں سید عامر شہزاد شاہ قتل کیس میں کے پی پولیس کو 7 ستمبر تک ملزمان کی گرفتاری سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔آئی جی اسلام آباد نے کمیٹی کو جرائم کی شرح میں 28 فیصد کمی، 2600 نئی بھرتیوں، 40 الیکٹرک گاڑیوں اور 60 سولر چارجنگ پوائنٹس کے قیام سے آگاہ کیا۔ سینیٹر طلحہ محمود کی نشاندہی پر مالاکنڈ اور چترال میں ایف آئی اے دفاتر کے قیام کا جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی گئی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ، سیکرٹری داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے، ڈی جی پاسپورٹس اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔