سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس

3

اسلام آباد،31اگست  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ نے سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت اجلاس میں ڈیجیٹل ڈیوائسز پر عائد ٹیکسز میں کمی، ورچوئل اثاثوں کے ریگولیشن، غیر قانونی ہجرت کی روک تھام اور سرکاری ملازمین کے لیے نئے قواعد و ضوابط پر تفصیلی غور کیا۔ کمیٹی نے ٹیبلٹس پر ٹیکس کے مکمل خاتمے اور سستے موبائل فونز پر ٹیکس کم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ بھاری ٹیکسز ملک میں ڈیجیٹل رسائی اور فائیو جی کے کامیاب نفاذ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اس موقع پر پی ٹی اے حکام نے آگاہ کیا کہ ملک میں 37 کمپنیاں موبائل فونز تیار کر رہی ہیں اور مارکیٹ کے 92 فیصد مقامی فونز پر اضافی درآمدی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔اجلاس کو پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان 250 ارب ڈالر کے تخمینے کے ساتھ دنیا کی تیسری بڑی کرپٹو مارکیٹ بن چکا ہے جہاں لگ بھگ 4 کروڑ صارفین موجود ہیں۔ حکومت کرپٹو کو فروغ دینے کے بجائے نوجوانوں کی اس سرگرمی کو ریگولیٹ کر رہی ہے اور تمام غیر رجسٹرڈ آپریٹرز کو 5 ستمبر تک رجسٹریشن کی حتمی مہلت دی گئی ہے جس کے بعد بلا تفریق قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ترسیلات زر میں بہتری اور اسلامی فنانس کے فریم ورک کے حوالے سے بھی پیش رفت جاری ہے۔ایف آئی اے نے غیر قانونی ہجرت سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ سخت کارروائیوں کے نتیجے میں غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کے رجحان میں 45 فیصد کمی آئی ہے تاہم لیبیا، ترکیہ اور پولینڈ سے ڈی پورٹ ہونے والے 250 مسافروں کا ریکارڈ کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارت خارجہ کے تصدیقی دفاتر میں شہریوں سے مبینہ طور پر بھاری رقوم وصول کیے جانے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا اور اس پر شفاف تحقیقات کی ہدایت کی۔ کسٹمز حکام کو بھی ملک بھر کے گوداموں میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے اور اسلام آباد کلب کو مالی سال 2024-25 کا آڈٹ جلد مکمل کرنے کا حکم دیا گیا۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ تمام سول سرونٹس کے لیے اپنی غیر ملکی شہریت ظاہر کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے جس کے لیے 30 دن کا نوٹس جاری کیا گیا ہے اور خلاف ورزی پر سخت تادیبی کارروائی ہوگی۔ مزید برآں سرکاری ملازمین کی آن لائن سرگرمیوں کی جانچ کے لیے مانیٹرنگ سیل قائم کیا جا رہا ہے جس کے تحت ٹک ٹاک، یوٹیوب یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سرکاری حیثیت کا فائدہ اٹھا کر ذاتی تشہیر اور ویڈیوز بنانے پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ سی ایس ایس کے امتحانات سے لے کر حتمی تقرری تک کا دورانیہ 18 ماہ سے کم کر کے 12 ماہ کر دیا گیا ہے۔