وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی کا رسالپور لوکوموٹیو فیکٹری کا تفصیلی دورہ

3

رسالپور۔ 02 ستمبر ( اے پی پی): وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے پاکستان لوکوموٹیو فیکٹری رسالپور کا تفصیلی دورہ کیا اور فیکٹری کے مختلف شعبہ جات، پیداواری سرگرمیوں، لوکوموٹیوز کی مرمت و بحالی اور اسپیئر پارٹس کی مقامی تیاری کا جائزہ لیا۔

وفاقی وزیر نے رسالپور لوکوموٹیو فیکٹری کو عالمی معیار کے مطابق مکمل طور پر ری ویمپ کرنے اور اس کی 100 فیصد پیداواری صلاحیت بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، ریورس انجینئرنگ اور مقامی وسائل کے ذریعے اسپیئر پارٹس کی تیاری کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔

وفاقی وزیر نے اے جی ای-30 لوکوموٹیوز کی تیاری اور بحالی کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے رسالپور فیکٹری کی استعداد سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔

انہوں نے جنوری 2027 سے 400 ہاپر ویگنز کی تیاری شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور ہدایت کی کہ نجی شعبے کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے رسالپور فیکٹری میں مختلف مصنوعات تیار کی جائیں۔

وفاقی وزیر نے 31 دسمبر 2026 تک تمام ٹرینوں کے ساتھ فعال بریکنگ سسٹم یقینی بنانے کا حکم دیا، تاکہ ٹرین آپریشنز میں سیفٹی اور کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ درآمدات کے متبادل کے طور پر رسالپور فیکٹری میں 300 اسپیئر پارٹس مقامی سطح پر تیار کیے گئے ہیں، جس سے 2.6 ارب روپے کے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ ایس آر-100 منصوبے کے تحت 15 اے جی ای-30 لوکوموٹیوز کی جدید کاری جاری ہے، جبکہ ستمبر 2026 سے فروری 2027 تک مزید 16 اے جی ای-30 ڈیزل الیکٹرک لوکوموٹیوز کی بحالی کا منصوبہ ہے۔

820 ہاپر ویگنز منصوبے کے تحت رسالپور فیکٹری کو تفویض کردہ 230 زیڈ بی کے سی اوپن ٹاپ ویگنز میں سے 147 تیار کیے جا چکے ہیں۔ وفاقی وزیر نے باقی 83 اوپن ٹاپ ویگنز 30 نومبر 2026 تک مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

وفاقی وزیرِ ریلوے نے فیکٹری کے ورکرز اور انجینئرز سے بھی ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ملازمین کے جائز مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فنی تربیت، ہیومن ریسورس اور استعدادِ کار میں بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے۔

محمد حنیف عباسی نے کہا کہ رسالپور لوکوموٹیو فیکٹری پاکستان ریلوے کا ایک اہم قومی اثاثہ اور ادارے کے وقار کی علامت ہے، اسے جدید، فعال اور مکمل پیداواری ادارے میں تبدیل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ رسالپور فیکٹری کی استعداد سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے پاکستان ریلوے کو لوکوموٹیوز، ویگنز اور اسپیئر پارٹس کی تیاری و مرمت میں خود انحصار بنایا جائے گا۔