سیف جیل منصوبہ: چینی ماہرین کی محکمہ داخلہ پنجاب آمد، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر پر تجاویز

4

لاہور 4 ستمبر:( اے پی پی ):  وزیراعلیٰ پنجاب سیف جیل منصوبے پر عملدرآمد کے سلسلے میں چینی ماہرین کے وفد نے محکمہ داخلہ پنجاب کا دورہ کیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری پریزن رومان بورانہ کی زیر صدارت اجلاس میں چینی ماہرین نے سیف جیل منصوبے کے مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں ڈی آئی جی پریزن نوید اشرف، پراجیکٹ ڈائریکٹر امتیاز عباس، این آر ٹی سی پراجیکٹ مینیجرز خرم شہزاد اور علی نواز سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

 چینی ماہرین کے وفد میں جوڈی کم اور ایرک ژانگ شامل تھے۔ اجلاس کے دوران مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کیلئے سمارٹ ویڈیو کانفرنس سسٹم اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس بیسڈ کانٹینٹ مینجمنٹ سسٹم کا جائزہ لیا گیا۔ جیلوں میں اسیران کے سیلز، بیرکس اور دیگر اہم حصوں میں پینک بٹنز اور پبلک ایڈریس سسٹم کی تنصیب کا بھی جائزہ لیا گیا۔

 بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کی جیلوں کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے محفوظ تر بنانے کیلئے سیف جیل منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ منصوبے کے تحت پنجاب کی جیلوں میں 12 ہزار سے زائد جدید کیمرے اور دیگر آلات نصب کیے جا رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں تمام 10 سینٹرل جیلیں، ڈسٹرکٹ جیل لاہور اور 10 کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز مکمل کیے جا رہے ہیں۔

 سیف جیل منصوبے کے تحت جیلوں کے داخلی و خارجی راستوں، دفاتر، بیرکس، سکیورٹی وال، جیمرز ایریا، کچن، ہسپتال اور لائبریری کو جدید سرویلنس سسٹم کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا۔ جیلوں میں کسی بھی خلافِ ضابطہ سرگرمی کی صورت میں جدید نظام کے ذریعے بروقت نشاندہی اور الرٹ جاری ہوگا۔ حکومت پنجاب نے سیف جیل منصوبے کیلئے 5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

پنجاب بھر کی جیلوں میں منصوبے کی تکمیل کیلئے مارچ 2027 کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔ منصوبے کی مانیٹرنگ کیلئے تمام جیلوں، ریجنل ڈی آئی جی دفاتر، آئی جی جیل آفس اور محکمہ داخلہ میں کنٹرول روم قائم کیے جا رہے ہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری پریزن رومان بورانہ نے کہا کہ پریزن ریفارمز حکومت پنجاب کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی ہدایت پر سیف جیل منصوبے پر پیشرفت کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔