سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس

3

 اسلام آباد، 80 ستمبر ( اے پی پی ): سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولیشن کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔  سینیٹرز جان محمد بلیدی اور پونجو بھیل نے اجلاس میں شرکت کی۔  اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات و نشریات، ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، ایڈیشنل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن اور نجکاری ڈویژن اور پاور ڈویژن کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کارروائی کے دوران کنوینر نے سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن کی غیر حاضری پر شدید برہمی ظاہر کی اور متنبہ کیا کہ مستقبل میں عدم موجودگی پر معاملہ وزیراعظم کے سامنے اٹھایا جائے گا۔

کمیٹی نے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی تجاویز پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد، فیصل آباد اور لاہور میں بالترتیب 100٪، 98٪ اور 99٪ ریکوری شرح ہونے کے باوجود نجکاری کا منطقی جواز نظر نہیں آتا۔ سینیٹر ضمیر گھمرو نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 157 کے مطابق بجلی کی تقسیم، ٹیرف کے تعین اور گرڈ اسٹیشنز کا قیام صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے خدمات نجی اداروں کو منتقل کرنے کے بجائے آئینی اسکیم کا احترام کیا جائے۔

ذیلی کمیٹی نے 18ویں ترمیم کے بعد بھی صوبائی موضوعات سے متعلق وفاقی وزارتوں کے تسلسل کو آئین سے متصادم قرار دیا۔ کیبنٹ ڈویژن کا رابطہ کاری سے متعلق عذر مسترد کرتے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ تمام 24 غیر قانونی طور پر قائم وزارتوں اور اداروں کو فوری ختم کیا جائے، جن پر 19 کھرب روپے خرچ ہو رہے ہیں۔

کمیٹی نے پولیس افسران کے سروس و پروموشن امور میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرتے ہوئے ہدایت کی کہ سابقہ کنکرنٹ لسٹ کے حذف ہونے کے بعد پولیس مکمل طور پر صوبائی معاملہ ہے، لہٰذا اس کے تمام امور اور سروس کنٹرول متعلقہ صوبائی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں۔