بجلی کی طلب میں اضافہ اور پاور سیکٹر کی لاگت میں کمی حکومت کی اہم ترجیحات ہیں: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری

5

اسلام آباد، 11 ستمبر (اے پی پی): وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے پاکستان بزنس کونسل کے وفد نے ملاقات کی، جس کے دوران کونسل کی جانب سے ملک میں بجلی کی طلب بڑھانے اور پاور سیکٹر کی پیداواری لاگت کم کرنے کے حوالے سے ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔

پاکستان بزنس کونسل کے نمائندوں نے بتایا کہ آئندہ 5 سے 7 سالوں میں بجلی کی سالانہ طلب میں 45 ٹیرا واٹ آور  تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ملاقات کے دوران الیکٹرک گاڑیوں، زراعت، ڈیٹا سینٹرز اور صنعتی شعبے میں بجلی کا استعمال بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ پاکستان بزنس کونسل کے مطابق اضافی طلب پیدا ہونے سے فکسڈ کیپیسٹی لاگت زیادہ یونٹس پر تقسیم ہو جائے گی، جس سے فی یونٹ لاگت میں کمی آئے گی۔ کونسل نے دستیاب پیداواری صلاحیت کے مؤثر استعمال کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی طلب میں اضافہ اور پاور سیکٹر کی لاگت میں کمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، اور حکومت پاور سیکٹر کی پیداواری لاگت سمیت صارفین پر سے غیر ضروری مالی بوجھ کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ صارفین کو 40 سے 50 فیصد تک سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ حکومت کراس سبسڈی کا بوجھ کم کر کے پاور سیکٹر کو زیادہ مؤثر، مستحکم اور پائیدار بنانا چاہتی ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے آپریشنل نقصانات میں کمی لا کر 265 ارب روپے کی بچت ممکن بنائی گئی ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ ٹائم آف یوز ٹیرف کے نفاذ سے صنعتوں کو معمول کی کھپت سے زائد بجلی فی یونٹ کم نرخوں پر فراہم کرنا ممکن ہوگا، جس سے صنعتی شعبے میں بجلی کی اضافی طلب کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ‘کم ترین لاگت’  کے اصول کی خلاف ورزی کرنے والے منصوبوں کا بوجھ کسی صورت صارفین پر نہیں ڈالا جائے گا، اور ایسے انحراف کی صورت میں اضافی لاگت متعلقہ منصوبہ خود برداشت کرے گا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ درآمدی کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کو مقامی (تھر) کوئلے پر منتقل کرنے سے متعلق تکنیکی مطالعات مکمل کیے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں درآمدی ایندھن پر انحصار ختم ہوگا اور بجلی کی پیداواری لاگت میں واضح کمی آئے گی۔

انہوں نے عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مستقبل قریب میں ملک بھر میں 100 فیصد بجلی کی فراہمی کے ہدف کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ بجلی کی طلب میں پائیدار اضافہ، مؤثر اور بلا تعطل فراہمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ سے منسلک ہے، لہٰذا حکومت پاور سیکٹر کی کارکردگی اور لاگت کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھے گی۔