ماتحت عدلیہ نظامِ انصاف کی ریڑھ کی ہڈی ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدیم

6

اسلام آباد،12ستمبر  (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عوامی اعتماد وراثت میں نہیں ملتا بلکہ دیانت داری سے حاصل ہوتا ہے، عدالتی نظام میں اصلاحات کے لیے زمینی حقائق کو سمجھنا ضروری ہے، انصاف کی بروقت فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے، تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں اور نوجوان ججز بہترین انداز میں انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔

ہفتہ کو جوڈیشل کمیشن پاکستان کے زیر اہتمام سپریم کورٹ میں اسلام آباد میں عدالتی نظام میں اصلاحات اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کے موضوع پر (جوڈیشل ویل بیئنگ )منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ماتحت عدلیہ نظامِ انصاف کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، ماتحت عدلیہ کے ججز مشکلات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور انہیں عوام کے اعتماد کے لیے بااختیار بنانا عدلیہ کا مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی ماتحت عدلیہ پر فخر ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ضلعی عدالتوں اور ہائیکورٹس کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ ضلعی عدالتیں انصاف کی فراہمی کے لیے درکار سہولیات کی فہرست بھجوائیں، عدلیہ کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ عدالتی افسران کی سہولیات اور شرائطِ ملازمت میں ہم آہنگی کے لیے کمیٹی قائم کی گئی ہے، جبکہ پاکستان بھر کے عدالتی افسران کے لیے ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عدالتی افسران پر بیرونی دباؤ کے خلاف باقاعدہ طریقہ کار یقینی بنایا گیا ہے اور انہیں بیرونی یا انتہا پسند عناصر کے دباؤ سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ججز کو بیرونی دباؤ سے آزاد کرنے کے لیے پوری عدلیہ ساتھ ہے، ججز کے ضابطۂ اخلاق میں بھی اس حوالے سے تبدیلی کی گئی ہے۔ انہوں نے عدالتی افسران پر زور دیا کہ وہ ایماندارانہ انداز میں اپنے فرائض انجام دیں۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں بہتری اور عوام کو انصاف تک رسائی کے پروگرام کے تحت رواں سال تین ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ماضی میں 20 سال کے دوران اسی پروگرام کے تحت صرف 90 کروڑ روپے جاری کیے گئے تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ماتحت عدلیہ میں شمسی توانائی، انٹرنیٹ، صاف پانی اور خواتین و بچوں کے لیے سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ بلوچستان کے 18 اضلاع میں شمسی توانائی، پانی اور انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں، جبکہ باقی اضلاع میں بھی ایک ماہ کے اندر بنیادی سہولیات فراہم کردی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تمام تحصیلوں اور اضلاع میں شمسی توانائی سمیت بنیادی ضروریات کی فراہمی پر کام جاری ہے۔ تھرپارکر کی تحصیل ننگرپارکر میں شمسی توانائی سمیت تمام بنیادی سہولیات موجود ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے، عدلیہ کو بہترین انٹرنیٹ سہولت اور عدالتوں میں ای لائبریریاں فراہم کی جائیں گی۔ خواتین اور بچوں کے لیے سہولت مراکز کی فراہمی پر بھی کام ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ انصاف کی حکمرانی وقت کی ضرورت ہے، انصاف کی فراہمی کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ججز کو سلام پیش کرتے ہیں۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے خطاب کے دوران شرکا کو تالیاں بجانے سے روکتے ہوئے کہا کہ اس چھت کے نیچے ہم سب یہاں ججز ہیں، ہمیں ججوں کی طرح پیش آنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کے حوالے سے عدالتوں کی درجہ بندی کے لیے تمام تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔