پمز ہسپتال کی بہتری کے لیے لائحہ عمل پر اجلاس ،وزیراعظم کا پمز ہسپتال میں نظام کی بہتری اور فائر سیفٹی اقدامات 3 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم

1

اسلام آباد، 16 ستمبر ( اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پمز ہسپتال کی بہتری کے لیے لائحہ عمل پر اجلاس منعقد ہوا جس میں پمز تحقیقاتی رپورٹ اور وزارت قومی صحت کی جانب سے پمز کے پرفارمینس آڈٹ کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ انکوائری رپورٹ میں مجوزہ قلیل مدتی اقدامات پر عملدرآمد کو آئندہ تین ماہ میں یقینی بنایا جائے۔ پمز ہسپتال میں بہتری اور اسے بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ فائر سیفٹی سے متعلق نظام کے لیے پی کے ایل آئی سے معاونت اور تجاویز لی جائیں۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں موجود تجاویز پر غور کر کے ان پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے۔ ہسپتال میں ادویات کی فراہمی اور سہولیات بالکل مفت فراہم کرنے کے لیے اقدامات بھی لائحہ عمل کا حصہ بنائے جائیں۔ پمز ہسپتال کی بہتری کے لیے اچھی شہرت کی حامل افرادی قوت کو تعینات کیا جائے اور طویل مدتی اقدامات پر مبنی جامع لائحہ عمل بھی مرتب کیا جائے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پولی کلینک ہسپتال کا آڈٹ کرکے بے ضابطگیوں کو دور کیا جائے اور اس کی تنظیم نو کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ سی ڈی اے اسلام آباد میں موجود تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ سی ڈی اے اور تمام متعلقہ ادارے سرکاری و نجی دفاتر و عمارتوں میں فائر سیفٹی کے حوالے سے آڈٹ یقینی بنائیں اور تمام دفاتر و عمارتوں میں فائر سیفٹی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

اجلاس میں وزارت قومی صحت کی جانب سے پمز ہسپتال کی بہتری اور اسے بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پمز ہسپتال کے پرفارمینس آڈٹ میں جانچ کردہ انڈیکیٹرز میں سے 90 فیصد کی قابل قبول ہدف کے مقابلے میں صرف 39.7 فیصد کمپلائنس پائی گئی۔ پمز تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں 37 مجوزہ اقدامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے جبکہ قلیل، وسط اور طویل مدتی اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔