وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت بین الادارہ جاتی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، پاکستان میں ہیگزویلنٹ ویکسین متعارف کرانیکی منظوری

3

اسلام آباد،17 ستمبر(اے پی پی): وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت بین الادارہ جاتی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان میں ہیگزویلنٹ (چھ بیماریوں سے بچاؤ کی) ویکسین متعارف کرانے کی منظوری دے دی گئی۔ متعلقہ صوبائی حکام نے گاوی (جی اے وی آئی ) سے مشاورت اور اتفاقِ رائے کے بعد اس منتقلی کی منظوری دی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ مجوزہ شیڈول کے مطابق بچوں کو ہیگزویلنٹ ویکسین 6، 10 اور 14 ہفتے کی عمر میں دی جائے گی، جبکہ اس منتقلی کی نیشنل امیونائزیشن ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کی جانب سے بھی توثیق ہو چکی ہے۔

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہیگزویلنٹ ویکسین کی طرف منتقلی پاکستان کے معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ وہ گزشتہ 14 ماہ سے گاوی اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ ہیگزویلنٹ ویکسین تک رسائی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہیگزویلنٹ ویکسین سے بچوں کو چھ بیماریوں سے تحفظ فراہم ہوگا اور بچوں کو کم انجیکشن لگیں گے، جس سے انہیں کم تکلیف ہوگی اور والدین کا اعتماد اور تعاون بھی بہتر ہوگا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہیگزویلنٹ ویکسین کی شمولیت سے حفاظتی ٹیکہ جات کا نظام مزید مؤثر ہوگا، دور دراز علاقوں تک ویکسین کی رسائی بہتر بنانے میں مدد ملے گی، جبکہ بچوں میں ویکسینیشن کے تحفظ کے خلاء کو کم کرنے اور ویکسینیشن کوریج بہتر بنانے میں بھی معاونت حاصل ہوگی۔

وفاقی وزیرِ صحت نے گاوی، گلوبل فنڈ، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، یونیسف، گیٹس فاؤنڈیشن اور دیگر شراکت داروں کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ یونیسف، گاوی اور عالمی ادارہ صحت نے ہیگزویلنٹ ویکسین کی منتقلی کے لیے مصطفیٰ کمال کے عزم اور قیادت کو سراہا۔