سلامتی کونسل میں پاکستان کا اقوام متحدہ کے امن مشنز کے لیے مضبوط سیاسی حمایت اور وسائل کی فراہمی پر زور

2

اقوام متحدہ، 19 ستمبر ( اے پی پی): پاکستان نے بدلتے ہوئے عالمی سلامتی کے ماحول میں اقوام متحدہ کے امن مشنز کو مؤثر، فعال اور موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے مستقل سیاسی حمایت، قابلِ عمل مینڈیٹس، مناسب وسائل اور مطلوبہ صلاحیتوں کی فراہمی پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے امن مشنز سے متعلق سلامتی کونسل کے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اب تک ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد پاکستانی امن اہلکار اقوام متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ 183 پاکستانی امن اہلکار قیام امن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ پاکستان اقوام متحدہ کے بھارت و پاکستان فوجی مبصر گروپ کی میزبانی بھی کر رہا ہے۔

امن مشنز کی پالیسی کو مضبوط بنانے میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سلامتی کونسل کے صدارتی بیان 16 (2004)، کثیر الجہتی امن مشنز سے متعلق قرارداد 2086 (2013)، تنازعات کے پرامن حل سے متعلق قرارداد 2788 (2025) اور امن اہلکاروں پر حملوں کے احتساب سے متعلق قرارداد 2823 (2026) کا حوالہ دیا۔ قرارداد 2823 پاکستان اور ڈنمارک کی مشترکہ کاوش سے تیار کی گئی اور اتفاق رائے سے منظور ہوئی جسے ریکارڈ 153 رکن ممالک نے حمایت کی۔

مستقبل کے امن مشنز کے لیے چار اہم ترجیحات اجاگر کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ امن مشنز کے لیے سیاسی حمایت اور واضح سیاسی حکمت عملی ضروری ہے۔ سلامتی کونسل واضح سمت، مستقل سیاسی حمایت اور مناسب وسائل فراہم کرے جبکہ میزبان ریاست کی رضامندی عملی تعاون میں بھی ظاہر ہونی چاہیے۔ سیاست کی بالادستی کا اصول عدم اقدام کا جواز نہیں بننا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مرکوز مینڈیٹس کا مطلب بہتر امن مشنز ہونا چاہیے کم تر امن مشنز نہیں۔ مرکوز مینڈیٹ کا مطلب محض مشن کا حجم کم کرنا نہیں بلکہ سیاسی اہداف، ذمہ داریوں، صلاحیتوں اور وسائل کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ ہر مشن کو اس کے مخصوص سیاسی اہداف اور عملی ضروریات کے مطابق تشکیل دیا جانا چاہیے۔ کارکردگی میں بہتری، غیر ضروری تکرار میں کمی، ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال اور علاقائی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری مضبوط بنانے پر زور دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو آج ان صلاحیتوں کی تیاری کرنی چاہیے جن کی امن مشنز کو کل ضرورت ہوگی اور سیکریٹری جنرل کی مجوزہ تحقیق کا خیرمقدم کیا۔

امن مشنز کو اقوام متحدہ کے حقیقی اجتماعی نظام کے طور پر برقرار رکھا جانا چاہیے۔ یہ اجتماعی ملکیت امن مشنز کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ 2823 کی متفقہ منظوری اقوام متحدہ کے امن مشنز کے لیے وسیع عالمی حمایت کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ مؤثر امن مشنز کے لیے سیاسی حمایت، قابل عمل مینڈیٹس، مناسب وسائل اور اقوام متحدہ کی اجتماعی ملکیت ناگزیر ہیں۔