پاکستان کی ترقی کا راستہ معیاری تعلیم، جدید تحقیق اور باصلاحیت انسانی وسائل کی تیاری سے ہو کر گزرتا ہے، احسن اقبال

3

اسلام آباد،22 ستمبر (اے پی پی): وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کا راستہ معیاری تعلیم، جدید تحقیق اور باصلاحیت انسانی وسائل کی تیاری سے ہو کر گزرتا ہے، آج کی دنیا میں علم سب سے بڑی طاقت ہے اور جدید علوم و ٹیکنالوجی میں مہارت کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کیا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد میں تعلیم، تحقیق اور عملی اقدامات سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم تیز رفتار علمی انقلاب کے دور سے گزر رہے ہیں، اب وہی قومیں آگے بڑھیں گی جو علم اور تحقیق کو اپنی ترقی کی بنیاد بنائیں گی۔ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی آج کی اصل طاقت ہے، ہمیں بدلتی دنیا کے تقاضوں کے مطابق خود کو مسلسل بہتر بنانا ہوگا۔

احسن اقبال نے کہا کہ تعلیمی نظام کو تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کے فروغ کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ نصاب تخلیقی صلاحیت ابھارنے کے لیے بدلا جا رہا ہے تاکہ نوجوان جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں تحقیق کو کتابوں اور لیبارٹریوں تک محدود رکھنے کے بجائے ملکی مسائل کے حل اور عملی اقدامات سے جوڑنا ہے۔ جامعات کو ملک کے حقیقی مسائل پر تحقیق اور جدت کے فروغ میں اپنا کردار مزید مؤثر بنانا ہوگا، جبکہ اساتذہ کی تربیت کو جدید ٹیکنالوجی، بدلتے تعلیمی تقاضوں اور کلاس روم کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، انہیں جدید علوم، ٹیکنالوجی اور مستقبل کی ضروری مہارتوں سے آراستہ کرنا ترجیح ہے۔ عالمی سطح پر مسابقت کے لیے ہمیں اپنی علمی، تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا۔

احسن اقبال نے کہا کہ کسی بھی پالیسی یا منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے وژن کے ساتھ مؤثر نظام اور اس پر عملدرآمد کا مضبوط طریقہ کار ضروری ہے۔ قوموں کی پائیدار ترقی کا انحصار ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنی روایات، اقدار اور تہذیبی شناخت سے جڑے رہنے پر بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں انسان کو کائنات میں غوروفکر اور تدبر کی دعوت دی ہے، تحقیق اور جستجو ہماری دینی اور علمی روایت کا حصہ ہیں۔ اقبال نے ہمیں کتاب خواں کی بجائے صاحب کتاب بننے کی تلقین کی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں ایسی تعلیم درکار ہے جو نوجوانوں کو صرف ملازمت کے لیے نہیں بلکہ ملک کی قیادت، جدت اور قومی ترقی کے لیے تیار کرے۔