نیویارک، 25 ستمبر ( اے پی پی): اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان پر پاکستان نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے بھارت پر ریاستی سطح پر پروپیگنڈا، گمراہ کن اطلاعات، دہشت گردی، علاقائی بالادستی اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی پالیسیوں کے الزامات عائد کیے۔
پاکستانی مندوب قونصلر صائمہ سلیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت نے دہشت گردی کو اپنی پالیسی کا آلہ بنایا اور پاکستان طویل عرصے سے اس کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ رواں صدی کے آغاز سے پاکستان دہشت گردی کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ قیمتی جانیں گنوا چکا ہے، جبکہ ملک کی معیشت کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے پاکستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد گروہوں کی بھارت کی جانب سے مبینہ مالی معاونت، اعانت اور سرپرستی کے شواہد پیش کیے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے بھارت پر بیرونِ ملک بھی دہشت گردی اور جاسوسی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی واضح مذمت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کے معاملے پر قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان کے مؤقف کے مطابق جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال کا تقابلی حوالہ دیتے ہوئے بھارت پر کشمیری عوام کو بنیادی حقوق اور آزادیوں سے محروم رکھنے کا الزام عائد کیا۔
بھارت میں اقلیتوں کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے بھارتی حکومت اور ہندوتوا نظریے پر تنقید کی۔ انہوں نے مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور سکھوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک، مذہبی منافرت، تشدد اور سیاسی حقوق سے محرومی کے واقعات کا حوالہ دیا اور گجرات و دہلی میں ہونے والے تشدد، اسلام مخالف بیانات اور شہریت سے متعلق قوانین کو اپنے مؤقف کی بنیاد قرار دیا۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے قونصلر صائمہ سلیم نے بھارت پر بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں اور معاہدوں کے تقدس کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی پاکستان کے عوام کے لیے بنیادی ضرورت ہے اور اسے سیاسی یا تزویراتی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مئی 2025 کی پاک بھارت فوجی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس دوران اپنے دفاع کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن، باہمی احترام، مکالمے اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق پاکستان جارحیت کی صورت میں اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا، تاہم امن کے حصول کی کوششوں سے دستبردار نہیں ہوگا۔











