قرآن پاک کا پیغامِ امن ہمارے لیے مشعل راہ ہے،وزیراعظم شہباز شریف

7

اقوام متحدہ،25 ستمبر  (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ قرآن پاک کا پیغامِ امن ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے عالمی و علاقائی امن، انسانی حقوق، پاکستان کی سلامتی، آبی حقوق، دہشت گردی، اسلاموفوبیا، معاشی ترقی اور موسمیاتی انصاف پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

اجلاس کا موضوع “اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایسی اقوام متحدہ جو سب کے لیے مؤثر ثابت ہو” ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ  بعض اوقات بڑی بہادری جنگ شروع کرنے کے بجائے اسے روکنے میں ہوتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے امن کا انتخاب کرے۔امن کی اہمیت بیان کرتے ہوئے وزیراعظم نے سورۃ الانفال کی آیت نمبر 61 کا حوالہ دیا، “اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ۔” انہوں نے کہا کہ امن کا حصول انسانی کوششوں کے عظیم ترین مقاصد میں شامل ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بھی اقوام متحدہ کے منشور کی حمایت اور عالمی امن و خوشحالی میں بھرپور کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ وزیراعظم کے مطابق یہ تعلیمات پاکستان کے قومی تشخص اور داخلی و خارجی طرزِ عمل کی رہنما ہیں۔بھارتی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایک سال قبل پاکستان کو بلاجواز بیرونی حملے کا سامنا کرنا پڑا اور اس نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا حقِ دفاع استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے پیشہ ورانہ مہارت اور درست حکمتِ عملی کے ساتھ جواب دے کر دشمن کے حملے پسپا کیے۔وزیراعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششیں ایسے فیصلہ کن موقع پر سامنے آئیں جب دو جوہری ہمسایہ ممالک وسیع جنگ کے دہانے پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ اس خطرناک صورتِ حال سے بچانے کے لیے جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ضروری ہے۔کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ کشمیری عوام آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ استصوابِ رائے کے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ انہوں نے غیرقانونی قبضے، من مانی حراست، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، جنسی تشدد اور اجتماعی سزاؤں کا ذکر کیا اور کہا کہ آبادیاتی تبدیلیوں کے ذریعے جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت بدلنے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان کشمیریوں کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول تک ان کی مکمل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

سندھ طاس معاہدے پر وزیراعظم نے کہا پانی کو ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے اور پاکستان کے حصے کا پانی روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوشش جنگی اقدام تصور کی جائے گی۔وزیراعظم نے پاکستان کی صدارت میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری کو تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال فروری میں خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں تنازعے سے انسانی جانوں، معیشتوں اور اہم بحری راستوں، بالخصوص آبنائے ہرمز، کو شدید نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ اس نازک موقع پر پاکستان نے فوری عملی قدم اٹھایا اور مسلسل کوششوں سے واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں ایک میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی۔ اسلام آباد مذاکرات سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت تک تنازعے کے خاتمے کے لیے تاریخی اقدامات کیے گئے۔ وزیراعظم نے سفارت کاری کے لیے گنجائش پیدا کرنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کوششوں کو سراہا۔

حالیہ کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جنگ کے شور میں سفارت کاری کی آواز مزید بلند ہونی چاہیے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو عالمی معیشت کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ راستے کھلے رہنے چاہئیں تاکہ قوموں کو جوڑیں اور خوشحالی کا ذریعہ بنیں۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں اور مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کو کوئی خطرہ ناقابلِ قبول ہے اور پاکستان سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو انہوں نے خطے کے دفاع، استحکام اور امن کا اجتماعی عزم قرار دیا، جو کسی ملک کے خلاف نہیں۔فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی عوام، بالخصوص خواتین، بچے اور بزرگ، نسلوں سے قبضے، بے دخلی اور تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مغربی کنارے میں اسرائیلی تشدد اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی پر تشویش ظاہر کی اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کی حمایت دہرائی، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ انہوں نے لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کرتے ہوئے اسے فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے تقریباً ایک لاکھ جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالر سے زیادہ معاشی نقصان برداشت کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج اور شہریوں کی ان قربانیوں کو امن پسند دنیا کبھی فراموش نہ کرے۔وزیراعظم نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغانستان میں موجود پناہ گاہوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ انہوں نے افغان حکام سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے اور قابلِ تصدیق، فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کیا تاکہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ انہوں نے افغان عوام، بالخصوص خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق کے احترام پر بھی زور دیا۔اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی مرد و خواتین کئی دہائیوں سے شہریوں کے تحفظ اور تنازعات سے متاثرہ ممالک میں امن کی بحالی کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں، جن کی قربانیوں پر قوم کو فخر ہے۔اسلاموفوبیا پر وزیراعظم نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، مساجد پر حملوں اور قرآن کریم کی بے حرمتی پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے بھارت میں آر ایس ایس سے وابستہ ہندوتوا نظریے کے تحت مذہبی نفرت اور تشدد کا ذکر کیا اور سہارنپور میں 150 سال پرانی مسجد کے انہدام کی مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں مذہبی نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

قومی معیشت کے حوالے سے وزیراعظم نے معاشی بحالی کو حکومت کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے استحکام بحال کیا گیا ہے، جبکہ زراعت و صنعت کی جدت، معدنی وسائل کی ترقی، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوانوں کی مصنوعی ذہانت و آئی ٹی میں تربیت پر کام جاری ہے۔ سی پیک اور خلیج و وسطی ایشیا کے ساتھ روابط کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے چین کے صدر شی جن پنگ کے عالمی ترقی، سلامتی، تہذیب اور حکمرانی کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے لیے بروقت قرضوں میں ریلیف، مناسب طویل مدتی مالی معاونت اور عالمی مالیاتی اداروں میں زیادہ مؤثر نمائندگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کو سلامتی جتنی توجہ ملنی چاہیے۔

موسمیاتی تبدیلی پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، لیکن بار بار تباہ کن اثرات برداشت کرتا ہے۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک سے موسمیاتی مالی وعدے پورے کرنے، نقصانات کے ازالے اور متاثرہ ممالک کی تیاری و بحالی کے لیے تعاون فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ اعتماد صرف الفاظ سے بحال نہیں ہوتا بلکہ عملی اقدامات سے حاصل ہوتا ہے۔ اعتماد تب بحال ہوگا جب دریا تعاون کا ذریعہ بنیں، موسمیاتی بحران کے ذمہ دار ممالک متاثرین کی مدد کریں اور بندوقوں کی جگہ مکالمہ اور تعاون لے۔

انہوں نے “یو این 80 اقدام” کے ذریعے اقوام متحدہ کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے اور سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ، جمہوری اور جوابدہ بنانے پر زور دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اصلاحات رکن ممالک کی اکثریت کے مفادات کی عکاس ہونی چاہئیں۔ پاکستان کا نصب العین “سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی استحقاق نہیں” ہے۔وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر خلیل الرحمٰن کو مبارکباد اور پاکستان کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے انالینا بیئربوک کی گزشتہ اجلاس کی قیادت کو سراہا اور سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو اقوام متحدہ اور عالمی جنوب کے لیے مؤثر آواز اٹھانے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔