افغان عبوری حکومت کو عسکریت پسندانہ سوچ سے نکل کر ذمہ دار ریاست کا طرزِ فکر اپنانا ہوگا، امن کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کا جواب دیا جائے گا، عطاء اللہ تارڑ

3

اسلام آباد۔29ستمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغان عبوری حکومت کو عسکریت پسندانہ سوچ سے نکل کر ذمہ دار ریاست کی سوچ اپنانا ہوگی، پاکستان امن، مذاکرات اور پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے تاہم پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، امن کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کا جواب دیا گیا ہے اور دیا جائے گا، افغان عوام ایک بہتر اور خوشحال مستقبل کے مستحق ہیں اور انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے  کا اختیار ملنا چاہیے ۔

 منگل کو یہاں مقامی ہوٹل میں“افغان صورتحال اور امن کی جانب پیشرفت” کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ہمسایہ ممالک ہیں اور ہمیشہ ہمسائے رہیں گے، دونوں ممالک کے درمیان تاریخی روابط اور تعلقات موجود ہیں تاہم ماضی میں تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران 40 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور انتہائی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے اور پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، اس مقصد کے لئے مختلف اوقات میں مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی کوششیں کی گئیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان سے اعلیٰ سطح کے مختلف وفود افغانستان گئے تاکہ مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان پرامن بقائے باہمی کو یقینی بنایا جا سکے جبکہ استنبول اور دوحہ سمیت دوست ممالک میں بھی مذاکرات ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ امن حاصل کیا جا سکتا ہے اور پاکستان نے امن کو موقع دینے کے لئے ہر ممکن کوشش کی تاہم سوال یہ ہے کہ کیا امن کے حصول کا عزم موجود ہے؟ بدقسمتی سے اس کا جواب نفی میں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ افغانستان میں موجودہ مسائل کی ایک بڑی وجہ عسکریت پسندانہ سوچ ہے، افغان عبوری حکومت کو اس سوچ سے نکل کر ریاستی اور مدبرانہ طرز فکر اپنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تجارت کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں، اگر امن قائم ہو اور وسطی ایشیاء سے افغانستان کے راستے پاکستان تک تجارتی راہداری قائم ہو تو دونوں ممالک کے عوام خوشحال ہو سکتے ہیں۔ وسطی ایشیاء کی خشکی میں گھری ہوئی ریاستوں کے لئے گرم پانیوں تک رسائی کا قریب ترین راستہ پاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تجارتی راہداری کی راہ میں بنیادی رکاوٹ عسکریت پسندی ہے۔ افغانستان میں دہشت گردوں اور بین الاقوامی سطح پر کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے ارکان کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے مذاکرات کے ذریعے افغان حکومت پر واضح کیا ہے کہ اسے اس سوچ سے باہر نکلنا ہوگا اور ایک قابل عمل اور پائیدار نظام کے ذریعے امن قائم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان ایک نوجوان آبادی والا ملک ہے تاہم خواتین کی ایک بڑی تعداد کو افرادی قوت کا حصہ بننے سے محروم رکھا گیا ہے جس سے ملک کی معاشی ترقی متاثر ہو رہی ہے، معاشرے کے بعض طبقات کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پُرامن بقائے باہمی کے لئے ’’جیو اور جینے دو‘‘ کے اصول کو تسلیم کرنا ہوگا۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مسلسل مذاکرات اور بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، ہم نے اپنا مؤقف واضح کیا ہے کہ خوشحالی کی راہ صرف امن سے ہو کر گزرتی ہے۔ اگر اس تصور کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ سمجھا جائےتو افغان عوام اور افغان عبوری حکومت کے درمیان موجود خلیج کو بھی دور کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہر افغان شہری امن، استحکام، معاشی خوشحالی اور بہتر معیار زندگی کا خواہاں ہے۔ افغان عوام اور عبوری حکومت کے نظریئے کے درمیان بڑا فاصلہ موجود ہے جس کے باعث افغان عوام غربت اور محرومی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ایک طرف دہشت گردی اور دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا مسئلہ موجود ہے جبکہ دوسری جانب افغان عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، افغان حکومت اور عوام کے درمیان اس خلیج کے باعث افغانستان میں مسائل بڑھ رہے ہیں اور لوگ تبدیلی کے لئے اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ افغان عوام کو تعلیم، اجتماع، انجمن سازی، پُرامن بقائے باہمی اور معاشی آزادی سمیت اپنے بنیادی حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان جیسے وسیع امکانات رکھنے والے ملک میں صرف عسکریت پسندانہ سوچ کی وجہ سے عوام کے حقوق اور اقتصادی خوشحالی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ افغان عبوری حکومت کو بالآخر اس سوچ سے باہر نکل کر اپنے عوام کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا جس سے پورے خطے میں استحکام آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے دوست اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ خطے میں امن قائم ہونے سے تجارت کو فروغ ملے گا اور سرمایہ کاری آئے گی۔ کراچی اور گوادر تک تجارتی راستے کا قیام وسطی ایشیائی ریاستوں کی دیرینہ خواہش ہے جو امن کی صورت میں حقیقت بن سکتا ہے۔

 وفاقی وزیر نے کہا کہ خطے میں امن کے حصول اور تجارت کے فروغ پر اتفاق رائے موجود ہے، واحد مسئلہ افغانستان میں امن کا ہے اور یہ اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب افغان عبوری حکومت مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے نیک نیتی کے ساتھ اس کا حل تلاش کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں ملک  میں حملوں کے لئے افغان سرزمین کے استعمال اور دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان سے ملنے والی سپورٹ پر اپنے تحفظات سے افغان حکومت کو آگاہ کیا ہے۔ پاکستان نے دہشت گرد حملوں کے جواب میں کارروائیاں بھی کی ہیں۔

 عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستان میں امن کو سبوتاژ کرنے یا ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کسی بھی کوشش کا جواب دیا گیا ہے اور آئندہ بھی دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغان عوام ایک بہتر اور خوشحال مستقبل کے مستحق ہیں اور اس مقصد کے لئے افغانستان کے اندر اتفاق رائے ہونا چاہئے تاکہ افغان عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے آواز اور اختیار حاصل ہو۔ وفاقی وزیر نے انٹرنیشنل پارلیمنٹرینز کانگریس اور سینیٹر ستارہ ایاز کا تقریب میں شرکت کی دعوت دینے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے فورمز کے ذریعے افغان صورتحال کے پیچیدہ مسئلے کا قابل قبول حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔