ون پیشنٹ،ون آئی ڈی منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس

1

اسلام آباد، 06 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال اور وفاقی وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ کی زیر صدارت ’’ون پیشنٹ، ون آئی ڈی‘‘ منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا،جس میں منصوبے کو وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق جلد فعال کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں منصوبے کو مزید تاخیر اور غیر ضروری تکرار سے بچانے،واضح ٹرمز آف ریفرنس مرتب کرنے اور تمام متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں متعین کرنے پر زور دیا گیا۔ منصوبے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ اس کی پیش رفت،ممکنہ خامیوں اور مطلوبہ اصلاحات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جا سکے۔

وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ گزشتہ 14،15 ماہ سے زیر بحث مسائل کو اب باقاعدہ دستاویزی شکل دی جائے اور ان کا عملی حل نکالا جائے۔ صرف مسائل کی نشاندہی کافی نہیں،ان کے حل کے لیے واضح اقدامات اور ذمہ داریاں مقرر کی جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے میں موجود ممکنہ خامیوں کی نشاندہی اور ان کے ازالے کے اقدامات کو کا حصہ بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یونیورسل میڈیکل ریکارڈ  کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس پر تیزی سے کام جاری ہے تاہم اس وقت ملک میں یونیورسل میڈیکل ریکارڈ کا ڈیٹا موجود نہیں۔ منصوبے کے تحت ہر شہری کا شناختی کارڈ نمبر اس کا منفرد میڈیکل ریکارڈ نمبر (MR نمبر) ہوگا اور مریض کا طبی ریکارڈ مختلف ہسپتالوں اور اداروں کے بجائے ایک شناخت کے تحت دستیاب ہوگا۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال منتقلی کی صورت میں مریض کا سابقہ طبی ریکارڈ اور مکمل طبی تاریخ باآسانی دستیاب ہو سکے گی۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو متفقہ طریقہ کار کے تحت منصوبے کو عملی طور پر آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔

شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور صحت کا بہترین امتزاج میڈیکل ریکارڈ کے ذریعے علاج معالجے کے نظام کو شفاف اور جدید بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے منصوبے کو جلد نافذ العمل بنانے کے لیے عملی اقدامات پر زور دیا۔

اجلاس میں سسٹم کو سمجھنے اور مؤثر انداز میں چلانے کے لیے وزارت صحت میں آئی ٹی ونگ کو فعال کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔