سکھر،06اکتوبر(اے پی پی): میئر سکھر و ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے ہیڈکوارٹر منیلا میں منعقد ہونے والے کلائمیٹ ایڈاپٹیشن انویسٹمنٹ پلاننگ فورم میں بطور مہمان مقرر شرکت کرتے ہوئے سندھ میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، شہری ترقی اور بلدیاتی خدمات کی بہتری کے لیے اہم اقدامات اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کو اجاگر کیا۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی آج دنیا کو درپیش سب سے سنگین چیلنجز میں شامل ہے۔ شدید گرمی، سیلاب اور پانی کی قلت نے دنیا بھر میں عوامی زندگی، روزگار اور بنیادی شہری سہولیات کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ فورم میں حکومتوں کے نمائندگان، ترقیاتی شراکت داروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے شرکت کی،جہاں مربوط منصوبہ بندی، موسمیاتی تبدیلی سے محفوظ انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے مؤثر شراکتی ماڈلز کے ذریعے عملی حل تلاش کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ پاکستان، سندھ اور بالخصوص اپنے شہر سکھر کی نمائندگی کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے بتایا کہ حکومت سندھ اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اشتراک سے سندھ سیکنڈری سٹیز امپروومنٹ اینڈ انویسٹمنٹ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، جو صوبے کی تاریخ کے بڑے شہری ترقیاتی منصوبوں میں سے ایک ہے۔اس پروگرام کے تحت تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر، یعنی تقریباً 278 ارب پاکستانی روپے کی سرمایہ کاری پانچ بڑے شہروں میں کی جائے گی جو ڈویژنل ہیڈکوارٹرز ہیں جن میں سکھر حیدرآباد، لاڑکانہ، میرپورخاص اور شہید بینظیرآباد شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کا بنیادی مقصد شہریوں کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی، سیوریج اور گندے پانی کے بہتر انتظام، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور جدید سائنسی لینڈ فل سائٹس کی تعمیر ہے،جن میں وسائل کی بازیابی اور آمدنی پیدا کرنے کے نظام بھی شامل ہوں گے۔
اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی سے محفوظ انفراسٹرکچر،شجرکاری و شہری جنگلات،عالمی معیار کے مطابق جامع ماسٹر پلانز اور مختلف شعبوں کے لیے تفصیلی ترقیاتی منصوبے بھی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔ یہ پروگرام صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد شہروں کی معاشی ترقی، ہر شہر کی معاشی خصوصیات اور پیداواری صلاحیت کو فروغ دینا اور نوجوانوں، خواتین اور کمزور طبقات کے لیے روزگار اور معاشی مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پروجیکٹ ریڈی نیس فنانسنگ سے متعلق دستاویزات تقریباً مکمل ہو چکی ہیں اور جلد شائع ہونے کی توقع ہے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ اے ڈی بی کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا، معزز ینگ منگ یانگ نے حکومت سندھ اور متعلقہ بلدیاتی اداروں کے ساتھ ان منصوبوں پر بروقت عملدرآمد کے لیے مکمل تعاون اور معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی جانب سے سندھ کے شہری اور موسمیاتی منصوبوں میں تعاون صوبے کی ترقیاتی ترجیحات پر عالمی اعتماد کا اظہار ہے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے سکھر کے حوالے سے اہم خوشخبری دیتے ہوئے دی راک فیلر فاؤنڈیشن، برطانوی حکومت اور ایشیائی ترقیاتی بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے اربن ریزیلینس ٹرسٹ فنڈ کے تحت سکھر کے کلائمیٹ اینڈ ہیٹ ایڈاپٹیشن انویسٹمنٹ پلاننگ کے لیے 20 لاکھ امریکی ڈالر کی گرانٹ منظور کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ رقم مکمل طور پر گرانٹ ہے، قرض نہیں، جس پر کسی قسم کی واپسی، قرض کی ادائیگی یا سروس چارجز عائد نہیں ہوں گے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ ان شاء اللہ نومبر 2026 میں بین الاقوامی کنسلٹنٹس سکھر میں اپنا کام شروع کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی متحرک اور نوجوان قیادت میں پیپلز پارٹی اور حکومت سندھ کا عزم ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو عملی سرمایہ کاری میں تبدیل کرکے عوام کی زندگیوں میں دیرپا بہتری لائی جائے۔
انھوں نے کہاہمارا مقصد واضح ہے کہ ترقیاتی خیالات کو عملی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا،اپنے شہروں کو مضبوط بنانا،موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں ان کی استعداد بڑھانا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ ترقی کے سفر میں کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں اور تمام متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا جو سندھ میں موسمیاتی تحفظ،شہری ترقی اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔











