وزیراعظم کی  بینکوں کے لیے ہاؤسنگ فنانس کی فراہمی آسان بنانے کے لیے دیگر صوبوں کو پنجاب کی طرز پر اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن تیز کرنے کی ہدایت

0

اسلام آباد، 07 اکتوبر  (اے پی پی ): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بینکوں کے لیے ہاؤسنگ فنانس کی فراہمی آسان بنانے کے لیے دیگر صوبوں کو پنجاب کی طرز پر اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن سے بینکوں کے لیے ہاؤسنگ قرضوں کی فراہمی میں آسانی اور شفافیت آئے گی، ایس ایم ایز کی استعداد کار بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور عالمی ویلیو چین سے منسلک کرنے کے لیے سمیڈا موثر اقدامات کرے۔  ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اپنے زیر صدارت  ہاؤسنگ، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار اور زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس  میں کیا۔اجلاس میں قرضوں کے حوالے سے نیشنل بینک آف پاکستان اور اور فرسٹ ویمن بینک کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ای شعبوں کو مالی وسائل کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کرکے قرضوں کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے،چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت کے لیے ایس ایم ای پورٹل نومبر کے اختتام تک فعال کیا جائے،ایس ایم ای پورٹل کے ذریعے بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی اور لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) سمیت کاروباری سہولیات کی تازہ ترین صورتحال کی براہ راست نگرانی ممکن ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کی استعداد کار بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور عالمی ویلیو چین سے منسلک کرنے کے لیے سمیڈا موثر اقدامات کرے، نیشنل بینک آف پاکستان کی ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں قرضوں کی منظوری کی شرح 76 فیصد ہونا  قابل تحسین ہے۔وزیراعظم نے نیشنل بینک کے نئے تعینات ہونے والے صدر کو ہدایت کی کہ نیشنل بینک کی کارکردگی بڑھانے کیلئے بہترین پروفیشنلز کی خدمات لی جائیں اور مطلوبہ نتائج نہ دینے والے عملے کے خلاف بلا خوف محکمانہ کارروائی کی جائے، بینکوں کے لیے ہاؤسنگ فنانس کی فراہمی آسان بنانے کے لیے دیگر صوبے پنجاب کی طرز پر اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن تیز کریں، اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن سے بینکوں کے لیے ہاؤسنگ قرضوں کی فراہمی میں آسانی اور شفافیت آئے گی۔اجلاس کو ہاؤسنگ، زرعی شعبے  اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی کے اعداد وشمار پیش کئے گئے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے تحت اب تک 426 ارب روپے مالیت کے 71 ہزار 690 قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے تحت اب تک  13,214 افراد کو 76 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں، رواں سال 125,000 رہائشی یونٹس کے لیے 700 ارب روپے کے قرضوں کی فراہمی کا ہدف رکھا گیا ہے، زرعی شعبے کے لیے قرضوں کا مجموعی حجم 1,352 ارب روپے ہے جس سے 34 لاکھ 55 ہزار افراد مستفید ہوئے،جون 2027ء تک زرعی قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور مستفید ہونے والوں کی تعداد 45 لاکھ کا ہدف مقرر ہے، زرعی شعبے کی مالی وسائل تک رسائی بڑھا کر کسانوں کی پیداواری صلاحیت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا، ایس ایم ای شعبے کے 3 لاکھ 50 ہزار  کاروباری افراد کو 1,137 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جون 2027ء تک ایس ایم ای شعبے کے قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور قرض حاصل کرنے والے کاروباری اداروں کی تعداد 5 لاکھ 65 ہزار کا ہدف مقرر ہے،ایس ایم ایز کو مالی وسائل تک آسان رسائی، جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، ایس ایم ایز کے لیے نظرثانی شدہ ضوابط اور ہائوسنگ فنانس کے طریقہ کار کو مزید آسان اور موثر بنانے کےلئے اقدامات لئے جارہے ہیں۔ اجلاس کو قرضوں کی فراہمی میں مشترکہ رسک شیئرنگ،  سپلائی چین فنانسنگ کے فروغ ، مستند ڈیٹا شیئرنگ اور دیگر جاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ چھوٹے قرضوں کے حصول کے لیے صارفین کو بینک برانچوں کے چکر لگانے سے نجات دلانے کے لیے ڈیجیٹل نظام کو فروغ دیا جارہا ہے۔اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، ریاض حسین پیرزادہ، عطاء اللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔