اقوام متحدہ، 09 اکتوبر(اے پی پی): پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کی ادارہ جاتی استعداد کو محفوظ رکھنے اور مزید مستحکم بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ مالی دباؤ کو اقوام متحدہ کے مستقبل کے امن مشنز کی سمت متعین کرنے کا بنیادی معیار نہیں بننا چاہیے۔
پاکستان کے نائب مستقل مندوب،سفیر عثمان جدون نے چیلنجز سالانہ فورم کے تحت امن مشنز کے لیے بدلتے حالات میں نئی پیش رفت: امن کے قیام کے لیے رفتار کیسے بڑھائی جائے” کے موضوع پر منعقدہ پینل مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “امن مشنز کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط تجربے کا عکاس ہے۔ پاکستان نہ صرف اقوام متحدہ کے امن مشنز میں نمایاں فوجی دستے فراہم کرنے والا ملک ہے بلکہ اقوام متحدہ کے قدیم ترین امن مشنز میں سے ایک، اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان ، کا میزبان ملک بھی ہے۔
سفیر جدون نے بتایا کہ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران پاکستان کے 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد امن اہلکار اقوام متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ ان میں سے 183 اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ امن مشنز وقت کے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات کے مطابق مختلف ادوار میں وسعت اختیار کرتے،سکڑتے اور اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے رہے ہیں۔ اس لیے موجودہ دور میں امن مشنز کے دائرۂ کار میں کمی کو ان کے لازمی زوال کی علامت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
موجودہ مالی دباؤ کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ کئی دہائیوں کی محنت سے قائم ہونے والے امن مشنز کے نظام کی صلاحیتوں،شراکت داریوں اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کے بعدانہیں دوبارہ اسی سطح پر بحال کرنا آسان نہیں ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ کہ محدود اور مرکوز مینڈیٹس کا مطلب امن مشنز کے حجم اور زمینی موجودگی میں محض کمی نہیں ہونا چاہیے،بلکہ ان کی بنیاد ایک مربوط سیاسی حکمت عملی،واضح ترجیحات اورتفویض کردہ ذمہ داریوں کے مطابق مناسب وسائل کی فراہمی پر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق،امن مشنز کی تشکیل زمینی حقائق اور متعلقہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جانی چاہیے، نہ کہ دستیاب وسائل کی محدودیت کو پیشِ نظر رکھ کر پہلے ہی ان کا دائرۂ کار محدود کر دیا جائے۔
نامیبیا، کمبوڈیا، موزمبیق، ایل سلواڈور،لائبیریا، کوٹ دیواغ اور سیرالیون میں اقوام متحدہ کے امن مشنز کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر جدون نے کہا کہ امن مشنز کے لیے کوئی ایک ہی طریقۂ کار تمام حالات میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے وسطی افریقی جمہوریہ میں اقوام متحدہ کے کثیرالجہتی امن مشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سازگار حالات میں ایسے مشنز شہریوں کے تحفظ، سیاسی عمل کی معاونت اور ریاستی عمل داری کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نائب مستقل مندوب نے مالی مشکلات کو امن مشنز کے لیے سیاسی حمایت میں کمی کے مترادف قرار دینے سے بھی خبردار کیا۔ انہوں نے امن کارروائیوں سے متعلق خصوصی کمیٹی 34) کی رپورٹ پر اتفاقِ رائے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2823 کی متفقہ منظوری کا حوالہ دیا،جس کی 153 رکن ممالک نے مشترکہ سرپرستی کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت اقوام متحدہ کے امن مشنز کے لیے وسیع تر عالمی حمایت اور عزم کا واضح ثبوت ہے۔









