پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد میں سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے اختیارات کی منتقلی کا اجلاس، آئینی شقوں کے نفاذ کا جائزہ

8

اسلام آباد ،13اکتوبر (اے پی پی ):وفاقی ملازمتوں میں صوبائی نمائندگی اور آئین کے آرٹیکل 172(3) کے نفاذ سے متعلق اہم آئینی امور پر غور و خوض کے لیے سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی صدارت میں پارلیمنٹ لاجز، اسلام آباد میں سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے اختیارات کی منتقلی کا اجلاس منعقد ہوا۔

 اجلاس میں سینیٹرز جان محمد بلیدی اور پونجو بھیل، سیکریٹریز (کابینہ، کونسل آف کامن انٹرسٹس/CCI، اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن)، اسپیشل سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ، ایڈیشنل سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ اور وزارتِ پیٹرولیم کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ وفاقی حکومت میں آرٹیکل 38(g) اور 172(3) کے نفاذ کے لیے کوئی مناسب طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ ان شقوں کا تعلق وفاقی ملازمتوں (بشمول BPS-1 سے 22 تک بھرتی اور ترقی) میں صوبوں کے حصے اور قدرتی گیس و تیل پر صوبوں اور وفاقی حکومت کے مشترکہ اور مساوی اختیار سے ہے۔

اجلاس کا آغاز آئین کے آرٹیکل 38(g) کے تحت وفاقی ملازمتوں (بشمول کارپوریشنز، قانونی اداروں اور خود مختار اداروں) میں BPS-1 سے 22 تک صوبائی حصے کے تفصیلی جائزے سے ہوا۔ کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ہدایات کے بعد مختلف وفاقی ڈویژنز اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی تعمیلی رپورٹس کا جائزہ لیا۔ بات چیت کے دوران چیئرمین نے وفاقی سرکاری ملازمتوں میں ساختی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے منعقدہ خصوصی اجلاسوں کا حوالہ دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ وفاقی ڈھانچے کے تحت کام کرنے والے 38 ڈویژنز میں، اعلیٰ انتظامی سطحوں پر بلوچستان جیسے صوبوں کی نمائندگی انتہائی کم ہے۔

کمیٹی نے زور دیا کہ بھرتی اور ترقی کے عمل میں آئینی کوٹے کی سختی سے پاسداری کی جائے اور تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز، منسلک محکموں، ذیلی دفاتر، کارپوریشنز اور قانونی اداروں میں میرٹ اور مساوات کی بنیاد پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ نے کمیٹی کو آئینی شقوں کی مکمل تعمیل کا یقین دلایا اور وضاحت کی کہ حکومتِ پاکستان سے تنخواہ لینے والے تمام ملازمین ان صوبائی کوٹے کے ضوابط کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔  کمیٹی نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے نمائندوں کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا کیونکہ یہ معاملہ بھرتیوں میں صوبائی کوٹے (حصے) سے بھی متعلق ہے۔

ایجنڈے کے دوسرے اہم نکتے کی طرف بڑھتے ہوئے، کمیٹی نے قدرتی گیس اور پیٹرولیم کے وسائل پر وفاقی حکومت اور صوبوں کے مشترکہ اور مساوی اختیار سے متعلق آئین کے آرٹیکل 172(3) کے نفاذ کا جائزہ لیا۔ چیئرمین نے سیکرٹری پیٹرولیم ڈویژن کی عدم موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور نشاندہی کی کہ 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے 16 سال گزرنے کے باوجود، 50/50 کی بنیاد پر مشترکہ انتظام اور محصولات کی تقسیم کا جامع اور قابلِ عمل ڈھانچہ ابھی تک مکمل طور پر تشکیل نہیں پا سکا۔

 کمیٹی کے ارکان نے وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے طریقہ کار میں بار بار ہونے والی تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبوں کو منتقل کیے گئے اہم معاملات کو ٹھوس پیش رفت کے بغیر بار بار ‘کونسل آف کامن انٹرسٹس’ (مشترکہ مفادات کی کونسل) کو بھیجنا قانون سازی کے اصل مقصد کو کمزور کرتا ہے۔ چیئرمین نے وزارتِ پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ وہ تمام متعلقہ صوبائی فریقین کے ساتھ مشاورت سے قدرتی گیس اور تیل پر صوبوں اور وفاقی حکومت کے مشترکہ اور مساوی اختیار کے لیے آئین کے آرٹیکل 172(3) کے نفاذ کا ایک واضح اور قابلِ عمل طریقہ کار وضع کرے اور 15 دنوں کے اندر کمیٹی کو نفاذ کی جامع رپورٹ پیش کرے۔

کمیٹی نے کہا کہ یا تو صوبوں کو گیس اور تیل کمپنیوں کے منافع کا نصف حصہ دیا جائے یا پھر تیل اور گیس کے کنوؤں (ویل ہیڈز) کا نصف حصہ ان کے حوالے کر دیا جائے۔مزید برآں، صوبوں کو منتقل کیے گئے امور کے مالی اثرات اور ساتویں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ پر بریفنگ کے دوران، کمیٹی نے وفاق اور صوبوں کو درپیش مالی چیلنجوں کا نوٹس لیا اور آئینی پاسداری اور صوبائی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنی پارلیمانی نگرانی کے کردار کو ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

 انہوں نے کہا کہ وفاقی اخراجات تقریباً 19 ٹریلین روپے ہیں جبکہ ملک کی کل ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدنی 20 ٹریلین روپے ہے، جو سب کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ اس میں بھاری کمی کی جانی چاہیے۔