دہشت گردی کے خاتمے اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو ترجیح دی جانی چاہیے، سینیٹر شیری رحمان

6

اسلام آباد۔ 15 اکتوبر (اے پی پی): پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرسکتی جو آئین پاکستان سے متصادم ہو۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئین، جمہوریت اور وفاق کے استحکام کے لیے جدوجہد کی ہے اور ملک کو درپیش سیاسی و سلامتی کے مسائل کا حل آئینی طریقہ کار، مذاکرات اور قومی اتفاق رائے میں تلاش کرنے کی حامی ہے۔

جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت سے متعلق صدارتی اعلامیے کی توثیق کے لیے پیش کردہ قرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں اور حکومت کو بھی بات چیت کے ذریعے سیاسی مسائل حل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ہنگامی حالت جیسے آئینی اختیار کے استعمال سے پہلے مذاکرات اور مفاہمت کے تمام ممکنہ راستے اختیار کیے جائیں تاکہ مسائل کا حل سیاسی انداز میں تلاش کیا جاسکے۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ جمہوریت کے لیے قربانیوں سے عبارت ہے۔ پارٹی نے مختلف ادوار میں غیر جمہوری اقدامات اور سیاسی مشکلات کا سامنا کیا، اس لیے وہ نہیں چاہتی کہ کسی دوسری سیاسی جماعت کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ 1973 کا آئین شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں تشکیل پایا اور پیپلز پارٹی نے محترمہ بینظیر بھٹو شہید سمیت اپنی قیادت کی جدوجہد اور قربانیوں کے ذریعے آئینی و جمہوری نظام کے تحفظ میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی آئین نے مشکل ترین حالات میں پاکستان کے وفاق کو متحد رکھا ہے۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ملک کو صرف سیاسی بحرانوں سے ہی نہیں بلکہ تعلیم، بچوں کے تحفظ اور دہشت گردی جیسے سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے بھی غیر معمولی توجہ اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام اور مسلسل کشیدگی کے اثرات براہ راست عام آدمی کی روزمرہ زندگی، آمدن اور معاشی حالات پر مرتب ہوتے ہیں، اس لیے سیاسی قیادت کو عوام کی مشکلات کا بھی احساس کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے محض سیاسی بحث کا موضوع نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ قومی مسئلہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں، قیادت اور عوام نے دہشت گردی کے باعث بھاری جانی نقصان اٹھایا ہے۔

انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی شہادت، پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر دہشت گرد حملوں اور آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہونا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ، آئین کے تحفظ اور عوام کی فلاح و بہبود جیسے معاملات پر قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔