کراچی، 21 اکتوبر (اے پی پی): یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبلس نے پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی قیادت سے ملاقات کی، جس میں جی ایس پی پلس فریم ورک کے تسلسل، پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کے فروغ اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعلقات کو مستحکم بنانے، ٹیکسٹائل کی برآمدات بڑھانے اور عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
یورپی یونین کے سفیر نے کہا کہ پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس کی سہولت سے مؤثر استفادہ کرنے اور اس کے تسلسل کے لیے بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل درآمد اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی کمیشن جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان کے ساتھ روابط اور تعاون کو مزید فروغ دے گا، جبکہ نئے فریم ورک میں عملی اقدامات اور قابل تصدیق پیش رفت کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگی۔
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیئرمین فواد انور نے کہا کہ جی ایس پی پلس پاکستان کی برآمدات، روزگار کے مواقع، ٹیکس محصولات اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جہاں پاکستانی برآمدات میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا نمایاں حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل یورپی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی ترجیحی رسائی برقرار رکھنے، برآمدات کو فروغ دینے اور ٹیکسٹائل صنعت کی عالمی مسابقت بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
کونسل کے نمائندے انیس خواجہ نے کہا کہ یورپی یونین کی جائزہ رپورٹ میں انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات اور گورننس کے شعبوں میں پاکستان کی پیش رفت کو تسلیم کیا گیا ہے، جو ان شعبوں میں جاری اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔
زکی بشیر نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعت کی کارکردگی اور عالمی معیارات پر عمل درآمد کے حوالے سے شعبے کی مخصوص پیش رفت کو بھی اجاگر کرنا اہم ہے۔پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد حسن شفقات نے کہا کہ یورپی یونین کے ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ اور سپلائی چین سے متعلق نئے ضوابط کے حوالے سے واضح رہنمائی اور متناسب طریقہ کار صنعت کے لیے معاون ثابت ہوگا۔
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے جی ایس پی پلس کے تسلسل کے لیے مقررہ مدت کے عملی منصوبے کی تیاری اور حکومتی اداروں کے ساتھ رابطہ کاری میں مکمل تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔ کونسل اس حوالے سے اپنی سفارشات وزیراعظم آفس، وزارت خارجہ اور وزارت تجارت کو پیش کرے گی، جبکہ اس کے چیئرمین متعلقہ حکومتی کمیٹی میں ٹیکسٹائل صنعت کی تجاویز بھی پیش کریں گے۔
وزارت خارجہ کی درخواست پر پاکستان ٹیکسٹائل کونسل یورپی یونین اور بھارت کے آزاد تجارتی معاہدے کے معاشی اثرات کا جائزہ بھی تیار کر رہی ہے، تاکہ پاکستانی برآمدات کے فروغ اور عالمی منڈی میں بہتر مواقع کے لیے مؤثر تجاویز مرتب کی جا سکیں۔
کونسل نے جی ایس پی پلس کے تحفظ، ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے، صنعتی ترقی اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔











