خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور مالدیپ کی خاتون اول ساجدہ محمدکا خواتین کو بااختیار بنانے، نوجوانوں کی ترقی اور عوامی روابط کے فروغ پر زور

6

اسلام آباد،21اکتوبر  (اے پی پی):خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور مالدیپ کی خاتون اول ساجدہ محمد نے خواتین کو بااختیار بنانے، نوجوانوں کی ترقی اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ کو پاکستان اور مالدیپ کے دوطرفہ تعلقات کے اہم ستون قرار دیا ہے۔

  ایوان صدر میں مالدیپ کی خاتون اول ساجدہ محمد سے ملاقات کے دوران بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی گرمجوشی اور مہمان نوازی ان کے دورے کو یادگار بنائے گی اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی، باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور اسلامی اخوت کے دیرینہ رشتوں کو مزید مضبوط کرے گی۔خاتون اول نے تعلیم، صحت، ثقافت، نوجوانوں کی ترقی اور عوامی سطح پر تبادلوں کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک خواتین کی عوامی زندگی میں شرکت بڑھانے اور ان کی تعلیم کے لیے زیادہ مواقع پیدا کرنے کے عزم میں شریک ہیں۔انہوں نے بالخصوص فنی تربیت، قیادت کی صلاحیتوں کے فروغ اور معاشی خودمختاری کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے مالدیپ کی خاتون اول کے پیشہ ورانہ سفر کو سراہتے ہوئے مالدیپ فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی میں ان کے قائدانہ کردار اور کورونا وباء کے دوران صحت عامہ کے شعبے میں ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے، سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی لانے اور جدید اقدامات کے ذریعے کمزور طبقات کی معاونت کے لیے ساجدہ محمد کی کوششوں کو بھی سراہا۔

دونوں خواتین اول نے خواتین کی قیادت، تعلیم، ہنر مندی کی ترقی، سیاحت و مہمان نوازی، جدید اور کم لاگت زراعت، کاروبار، صحت عامہ، سماجی ترقی اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے شعبوں میں باہمی تعاون مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔

بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین کو بااختیار بنانا، غربت کا خاتمہ اور مائوں و بچوں کی صحت ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے 2008 ءمیں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے شروع کیے گئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو پاکستان کا اہم ترین سماجی تحفظ کا اقدام قرار دیا جو لاکھوں مستحق خاندانوں بالخصوص خواتین کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے بینظیر نشوونما پروگرام کے مثبت اثرات کا بھی ذکر کیا جس کا مقصد زندگی کے ابتدائی ایک ہزار دنوں کے دوران غذائی قلت اور بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ کے مسائل سے نمٹنا ہے۔

بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہاکہ ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر عورت عزت و وقار اور معاشی تحفظ کے ساتھ زندگی گزارے اور ہر بچے کو زندگی کے آغاز ہی سے صحت مند ماحول میسر آئے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ، ماہرین، تعلیمی اداروں اور نوجوان پروفیشنلزکے درمیان تبادلوں میں اضافہ مستقبل کی نسلوں کے درمیان دیرپا تعلقات استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔دونوں خواتین  اول نے خواتین، بچوں اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے متعلقہ اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے درمیان قریبی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ ان شعبوں میں مسلسل روابط پاکستان اور مالدیپ کی دوستی کو مزید گہرا کرنے اور مشترکہ اہداف کو عوام کے لیے عملی فوائد میں تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

اس موقع پر بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اظہار یکجہتی اور چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی کے فروغ کے لیے مالدیپ کی خاتون اول اور ان کے وفد کے ارکان کو گلابی ربن بھی پیش کیے۔مالدیپ کی خاتون اول کے ہمراہ وزیر صحت، خاندان و بہبود گیلا علی بھی موجود تھیں۔ملاقات میں وزیر مملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر، سینیٹر روبینہ خالد اور رکن قومی اسمبلی شازیہ مری بھی موجود تھیں۔