این ایچ اے کے مالیاتی استحکام کا حصول اولین ترجیح ہے،وفاقی وزیر احد چیمہ

6

اسلام آباد،24اکتوبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ کی زیرِ صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حوالے سےاجلاس منعقد ہوا جس  میں این ایچ اے کا بزنس پلان تیار کرنے کے لیے اقدامات، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے کنسلٹنٹ کے ہمراہ جاری جائزے اور ادارے کو مالی طور پر مستحکم بنانے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔حکام نے اے ڈی بی کے کنسلٹنٹ کے ساتھ جاری سٹڈی کے ابتدائی نتائج پر اجلاس کو بریفنگ دی۔

اس موقع پر این ایچ اے کی کارکردگی بہتر بنانے، اس کے آپریشنز کو فعال کرنے اور مالیاتی پائیداری کے فروغ کے لیے مختلف ماڈلز اور تجاویز پیش کی گئیں۔

وفاقی وزیر احد چیمہ نے این ایچ اے کی صلاحیتوں کے جائزے اور واضح ٹائم لائن کے ساتھ ایک قابلِ عمل بزنس پلان تیار کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے زیرِ غور منصوبوں کے تفصیلی جائزے کی ہدایت کی اور کہا کہ پی سی ون میں منصوبوں کے تجارتی اعتبار سے منافع بخش ہونے کی وضاحت زیادہ حقیقت پسندانہ اشاریوں کے ساتھ کی جائے تاکہ سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کو ان کے تخمینے اور جانچ پڑتال میں آسانی ہو۔

منصوبوں کے بہتر انتخاب اور این ایچ اے کی مالی پوزیشن مستحکم بنانے کے لیے سینیٹر احد چیمہ نے ہدایت کی کہ اتھارٹی اپنے منصوبوں کی درجہ بندی ان کی افادیت اور مالی ضروریات کے مطابق کرے، جن میں حکومتی یا غیر ملکی فنڈنگ کے حامل منصوبے بھی شامل ہوں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ منصوبوں کی ابتدائی فیزیبلٹی سٹڈی میں ان کے قابلِ عمل ہونے کا واضح اندازہ لگایا جائے اور ابتدائی مرحلے پر ہی وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ (سی ایم یو) کو آراء کے لیے بھیجا جائے۔وفاقی وزیر احد چیمہ نے واضح کیا کہ این ایچ اے کے منصوبوں کے لیے حکومتی یا بیرونی فنڈنگ کی وجہ سے اتھارٹی کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے فنڈز میں کٹوتی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فنڈز میں کمی کی حامی نہیں ہے، کیونکہ این ایچ اے کے ترقیاتی پروگرام کے لیے پی ایس ڈی پی کی فنڈنگ ناگزیر ہے۔انہوں نے زور دیا کہ این ایچ اے کو مالی طور پر مستحکم بنانے اور اسے قرضوں کی ادائیگی کے ناقابلِ برداشت بوجھ سے بچانے کے لیے تجارتی، معاشی اور سماجی طور پر سودمند منصوبوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ جو منصوبے تجارتی اعتبار سے منافع بخش نہ ہوں، کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ان کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔

وزیر اقتصادی امور نے این ایچ اے کو اے ڈی بی کے کنسلٹنٹ کے ساتھ کام کی رفتار تیز کرنے کی بھی ہدایت کی، کیونکہ ان کی تجاویز سے منصوبوں کی منصوبہ بندی (میپنگ)، فزیبلٹی رپورٹ اور مالیاتی تجزیے کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔