نہری پانی چوری کے خلاف ملتان ڈویژن میں بھرپور کریک ڈاؤن کا فیصلہ

5

ملتان، 26 اکتوبر(اے پی پی): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ملتان ڈویژن میں نہری پانی چوری کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں اور آر پی او کیپٹن (ر) عثمان گوندل کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں پانی چوری کی روک تھام، مؤثر کارروائیوں، مقدمات کے اندراج اور قانونی پیروی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر عامر کریم خاں نے کہا کہ نہری پانی چوری کی روک تھام کے لیے محکمہ آبپاشی کو اپنی بنیادی ذمہ داری مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوگی۔ پانی چوری کے واقعات کی فوری نشاندہی، ذمہ داروں کے خلاف بلا تاخیر کارروائی اور درج مقدمات کی مؤثر پیروی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پانی چوری کے واقعات کی رپورٹیں تاخیر سے بھجوانے کا طریقہ کار ختم کیا جائے اور اس حوالے سے واضح نظام وضع کیا جائے۔

کمشنر نے مزید کہا کہ پانی چوری کے واقعات کی ڈیجیٹل میپنگ کی جائے اور حساس مقامات کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے۔ پانی چوری کے خلاف کارروائیوں کا ہفتہ وار جائزہ لیا جائے گا، جبکہ پانی چوری میں ملوث عناصر کے ساتھ ساتھ غفلت اور کوتاہی کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

آر پی او کیپٹن (ر) عثمان گوندل نے اجلاس کو بتایا کہ محکمہ آبپاشی کی جانب سے فراہم کی جانے والی بعض روبکاروں میں ملزمان کی مکمل شناخت اور ضروری تفصیلات موجود نہیں ہوتیں، جس سے قانونی کارروائی اور مقدمات کی پیروی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پانی چوری کے مقدمات کے لیے مکمل روبکاریں اور ٹھوس شواہد فراہم کیے جائیں۔ محکمہ آبپاشی کے افسران پانی چوری میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور مقدمات کی مؤثر پیروی کے لیے پولیس کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں۔

ڈپٹی کمشنر ملتان ڈاکٹر فیصل سلیم نے کہا کہ کنال مجسٹریٹ اپنے قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے موقع پر کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائیں۔ ڈپٹی کمشنر وہاڑی خالد جاوید گورائیہ نے پانی چوری کی شکایات پر فوری کارروائی کے لیے مؤثر ہاٹ لائن اور جواب دہی کا نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈپٹی کمشنر لودھراں محمد اشرف نے کہا کہ پانی چوری کے واقعات کی فوری نشاندہی اور شواہد کی بروقت تیاری ناگزیر ہے، کیونکہ تاخیر سے کارروائی متاثر ہوتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر خانیوال حنا ارشد نے کہا کہ پانی چوری کے خلاف کارروائیوں کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کرنا مؤثر اقدامات کی ضمانت ہے۔

سی پی او ملتان اختر فاروق نے پانی چوری کے مقدمات میں مکمل دستاویزات اور واضح شواہد کی فراہمی کو ضروری قرار دیا۔ اجلاس میں محکمہ آبپاشی کے افسران نے پانی چوری کے واقعات، روبکاروں کی تیاری اور مقدمات کے اندراج کے طریقہ کار کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔