وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اجلاس، ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی تنظیم نو اور اخراجات میں کمی کا جائزہ

9

کوئٹہ 26 اکتوبر ( اے پی پی ) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس پیر کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں ادارے کے غیر ضروری انتظامی اخراجات کم کرنے، تنظیم نو اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق اہم امور کا جائزہ لیتے ہوئے ضروری فیصلے کیے گئے۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ادارے کے انتظامی اخراجات میں کمی کے ذریعے بچت سے حاصل ہونے والے وسائل مزید طلبہ کو اسکالرشپس فراہم کرنے کے لیے بروئے کار لائے جائیں گے، تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق اور باصلاحیت طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں معاونت فراہم کی جا سکے۔

 اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ ایک اہم ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد طلبہ کو تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنا اور مالی مشکلات کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جانے والے نوجوانوں کی معاونت کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی تنظیم نو کے ذریعے اس کی کارکردگی مزید بہتر بنائی جائے گی اور انتظامی اخراجات میں کمی کے ساتھ دستیاب وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے گا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہداء کے بچوں ، اقلیتوں اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو اسکالرشپس کی فراہمی ایک اہم اقدام ہے جو تعلیم تک مساوی رسائی اور معاشرے کے مختلف طبقات کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے عزم کا عکاس ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ اسکالرشپس کی فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور نتیجہ خیز بنایا جائے، تاکہ وظائف حقیقی معنوں میں مستحق طلبہ تک پہنچ سکیں ۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ تعلیم کا فروغ اور مستحق و باصلاحیت طلبہ کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا حکومت بلوچستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرکاری وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں معاونت فراہم کی جائے گی۔اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ خالد ماندائی نے ادارے کی کارکردگی اور امور سے متعلق بریفنگ دی جبکہ سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان نے ادارے کے موجودہ اخراجات اور مجوزہ تنظیم نو کے نتیجے میں متوقع فوائد پر روشنی ڈالی۔ اجلاس میں ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے، غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور بچت سے حاصل ہونے والے وسائل کو تعلیمی وظائف کی فراہمی کے لیے استعمال کرنے سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔