دوحہ، 27 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے دوحہ میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران پاکستان اور قطر کے درمیان تجارتی تعلقات، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے مختلف شعبوں، بالخصوص تجارت، زراعت، صنعت، سیاحت اور ہوٹل انڈسٹری میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
وفاقی وزیرِ تجارت نے ڈی ایٹ (D-8) تنظیم کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات میں رکن ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے، اقتصادی روابط مضبوط بنانے اور ڈی ایٹ ترجیحی تجارتی معاہدے پر مؤثر عملدرآمد کے امور پر گفتگو کی۔ ملاقات میں رکن ممالک کی باہمی تجارت کو 2030ء تک 500 ارب ڈالر تک پہنچانے کے ہدف، تجارتی رکاوٹیں کم کرنے، نئی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور نجی شعبے کی شراکت داری کو فروغ دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈی ایٹ سیکرٹری جنرل نے اقتصادی تعاون کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔
جام کمال خان نے قطر کے وزیرِ بلدیات سے ملاقات میں زراعت، غذائی تحفظ اور تجارتی تعاون کے فروغ پر گفتگو کی۔ دونوں جانب سے زرعی شعبے میں مشترکہ کاروباری مواقع تلاش کرنے اور زرعی سپلائی چین سمیت غذائی تحفظ کے شعبوں میں روابط بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور قطر کے درمیان زرعی ترقی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
وفاقی وزیرِ تجارت نے قطر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین سے ملاقات میں قطری سرمایہ کاروں کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز اور کراچی کے صنعتی علاقوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں برآمدی صنعتوں اور مشترکہ صنعتی منصوبوں کے قیام کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں، جبکہ ملک کا جغرافیائی محلِ وقوع عالمی اور علاقائی منڈیوں تک رسائی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطری سرمایہ کار پاکستان کے ذریعے افریقی منڈیوں تک بھی رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
ملاقات میں دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے درمیان براہِ راست روابط بڑھانے، علاقائی تجارتی راہداریوں، ٹرانزٹ منصوبوں اور سپلائی چین کو بہتر بنانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جام کمال خان نے کہا کہ بہتر تجارتی راستوں سے کاروباری لاگت میں کمی اور نئی منڈیوں تک رسائی کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے قطر کے معروف “ریتاج گروپ” کے نمائندوں سے ملاقات میں پاکستان کے ہوٹل اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو کی۔ ریتاج گروپ نے پاکستان میں اپنے ہوٹل برانڈز کی توسیع اور مقامی کاروباری اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کرنے کے امکانات میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ ملاقات میں سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبوں میں کاروباری شراکت داری کو فروغ دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
جام کمال خان نے کہا کہ حکومتِ پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کے لیے تجارتی اور صنعتی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی رابطوں اور مضبوط سپلائی چین کے ذریعے پاکستانی برآمدات کے لیے نئی راہیں کھولی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقتصادی سفارت کاری کے ذریعے عالمی تجارتی شراکت داریوں کو وسعت دینے اور تجارت، زراعت، صنعت اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔











