انسدادِ پولیو پر اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس، ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے صوبوں کے ساتھ مشترکہ مربوط لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت

7

 

اسلام آباد، 05 نومبر (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پولیو سے پاک پاکستان کا حصول اگرچہ ایک بڑا چیلنج ہے لیکن ہمارا عزم اور حوصلہ اس چیلنج سے کہیں زیادہ مضبوط ہے، تمام صوبوں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی مشاورت اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے ملک سے پولیو کا مکمل خاتمہ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

 جمعرات کو انسدادِ پولیو کے حوالے سے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے ملک بھر میں مہمات کے کامیاب انعقاد کے لیے فرنٹ لائن پولیو ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات اور عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ حساس اور دشوار گزار علاقوں میں ورکرز کی مسلسل رسائی اور ان کی سیکیورٹی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ضلع خیبر سے پولیو کا نیا کیس سامنے آنے کے بعد رواں سال ملک میں پولیو کیسز کی کل تعداد 9 ہو گئی ہے۔ بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ 2026 میں خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے 3، بنوں سے 3 اور شمالی وزیرستان سے ایک کیس رپورٹ ہوا ہے، جبکہ خیبر سے سامنے آنے والے تمام کیسز کا تعلق افغانستان سے آنے والے پولیو وائرس سے ہے۔ اس کے علاوہ رواں سال سندھ میں کراچی شرقی اور سجاول سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ افغانستان سے ہونے والی آمد و رفت اس وقت پاکستان میں پولیو کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے، تاہم سندھ کے ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی مقدار میں کمی آئی ہے۔

بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پنجاب میں فروری 2025 کے بعد سے پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، جبکہ بلوچستان میں 2025 اور 2026 کے دوران پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان پہلے ہی پولیو سے پاک ہیں۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ انسدادِ پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے اور انہیں خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے ملک میں پولیو کیسز کے سامنے آنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس موذی مرض کے خلاف پہلے سے زیادہ بہتر حکمتِ عملی اور بھرپور جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وفاقی وزیر، وزیر مملکت، سیکرٹری قومی صحت اور انسدادِ پولیو ٹیم کے اراکین فوری طور پر چاروں صوبوں کا دورہ کریں اور وزرائے اعلیٰ و چیف سیکرٹریز سے ملاقاتیں کریں۔ وزیراعظم نے ایک ہفتے کے اندر تمام صوبوں سے مشاورت کے بعد پولیو کے خاتمے کا ایک جامع اور مربوط لائحہ عمل تیار کرنے کی سخت ہدایت کی۔

شہباز شریف نے ملک بھر میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات (روٹین امیونائزیشن) کی کوریج کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا اور خاص طور پر پولیو سے متاثرہ اور تشویشناک اضلاع میں کوریج بڑھانے کی ہدایت کی تاکہ بچوں کو اس بیماری سے مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے سیکیورٹی کے حوالے سے حساس اور دشوار علاقوں میں انسدادِ پولیو ٹیموں کی رسائی میں نمایاں بہتری کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔