وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی سعودی عرب، مصر اور تیونس کے اعلیٰ حکام سے الگ الگ ملاقاتیں، دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال

9

استنبول، 5 نومبر (اے پی پی): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ترکیہ میں اسلامی تعاون تنظیم کی اقتصادی و تجارتی کمیٹی (کومسیک) کے 42ویں اجلاس کے موقع پر سعودی عرب، مصر اور تیونس کے اعلیٰ حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تجارتی تعلقات، سرمایہ کاری اور مشترکہ کاروباری و صنعتی منصوبوں کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سعودی عرب کے ڈپٹی گورنر برائے بین الاقوامی تنظیموں و معاہدات فرید ایس العسالی سے ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب نے زراعت، صنعت، لائیو اسٹاک اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر جام کمال خان نے دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری اور کاروباری منصوبوں کی تجویز پیش کرتے ہوئے افریقی منڈیوں میں مشترکہ تجارتی مواقع تلاش کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے سعودی وفد کو پاکستان میں آئندہ فوڈ ایگ نمائش میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

مصر کے وزیر سرمایہ کاری و بیرونی تجارت محمد فرید صالح سے ملاقات میں ٹیکسٹائل، کپاس، صنعت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مصری وزیر نے پاکستانی کمپنیوں کو مصر میں صنعتی اور پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے وہاں صنعتی یونٹس کے قیام کے ذریعے امریکی منڈی تک رسائی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی تجویز دی۔ انہوں نے آئندہ بزنس فورم میں شرکت کرنے والی پاکستانی کمپنیوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست بھی کی اور پاکستانی طلبہ کے لیے طب، انجینئرنگ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعلیمی مواقع سے آگاہ کیا۔ جام کمال خان نے دونوں ممالک کی نجی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔

تیونس کے وزیر تجارت و برآمدی ترقی سمیر عابد سے ملاقات میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو اس کی حقیقی صلاحیت کے مطابق بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں زراعت، معدنیات، ٹیکسٹائل، آٹو پارٹس اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ جام کمال خان نے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات اور مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے نجی شعبے کے روابط اور مشترکہ صنعتی منصوبوں کے فروغ کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان کی ترجیح دوطرفہ تجارتی تعلقات کو عملی کاروباری شراکت داری میں تبدیل کرنا ہے۔ کومسیک اجلاس کے موقع پر ہونے والی یہ ملاقاتیں پاکستان کی فعال اقتصادی سفارت کاری اور عالمی تجارتی روابط کے فروغ کی عکاس ہیں۔