ایس ایم ایز کے لیے طویل مدتی فنانسنگ پر 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کرنے کی ہدایت، رعایتی اسکیموں پر بینکوں کو انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی: وزیراعظم شہباز شریف

9

اسلام آباد،05 نومبر (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے برآمدات کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو طویل مدتی فنانسنگ کی سہولت سے استفادہ کرنے کے لیے 80 فیصد برآمدات کی لازمی شرط ختم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے لیے رعایتی فنانسنگ اسکیم پر کسی بھی بینک کو عمل درآمد سے انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جمعرات کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت برآمدات کرنے والے ایس ایم ایز کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کو ایس ایم ایز کے نمائندوں کے ساتھ حالیہ مشاورتی نشستوں اور ان کے مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مشاورتی نشستوں میں ٹیکسوں، ریفنڈز، صوبائی محصولات، ایکریڈیٹیشن، لاجسٹکس، ادائیگیوں اور فنانسنگ سے متعلق مسائل زیرِ بحث آئے جبکہ پاکستان میں برآمدات سے وابستہ ایس ایم ایز کی تعداد تقریباً 17 ہزار ہے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے یکم نومبر سے ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں تک آسان رسائی کے پورٹل کے اجرا کے بعد 10,000 سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ایکسپورٹ فائنانس اسکیم میں ایس ایم ای سیکٹر اور نئے ایکسپورٹرز کے لیے 300 ارب روپے جبکہ طویل مدتی ترقیاتی فائنانسنگ فیسلٹی (LTGFF) کے لیے اس سال 350 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ افریقی ممالک کو پاکستانی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے بھی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ برآمد کنندگان کو ان کی دہلیز پر سہولیات کی فراہمی کے لیے جدید لیبارٹریز کا قیام عمل میں لایا جائے، ایکریڈیٹیشن کے معیار اور لاجسٹکس سمیت دیگر ضابطہ جاتی طریقہ کار کو مزید بہتر بنایا جائے۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ایس ایم ایز کی استعداد کار میں اضافے، مہارتوں کی بہتری اور کاروبار کے فروغ کے لیے ہر ممکن سرپرستی اور معاونت فراہم کرے گی۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، احسن اقبال، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، اویس احمد خان لغاری، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ذوالفقار علی بھٹی، چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے تجارت جاوید حنیف خان، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔