اسلام آباد، 05 نومبر (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے آبی وسائل محمد معین وٹو نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی یکطرفہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کی حفاظت پرامن اور قانونی ذرائع سے جاری رکھے گا۔
پانچ روزہ چھٹی “پاکستان واٹر ویک 2026” بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی عدالتِ ثالثی نے 31 اگست 2026 کو اپنے متفقہ فیصلہ میں واضح کر دیا ہے کہ بھارت کا معاہدہ معطل کرنے کا اقدام غیر قانونی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، نیز سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر فعال ہے اور بھارت اس کی پاسداری کا پابند ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو ثالثی عدالت کے فیصلہ اور معاہدے پر عملدرآمد کا پابند بنائے۔
محمد معین وٹو نے ملکی سطح پر پانی کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے چار ترجیحات کا ذکر کیا جن میں پالیسیوں پر عملدرآمد کے لیے اداروں کی ذمہ داریوں کا تعین، آبی بنیادی ڈھانچے کا کارکردگی کی بنیاد پر جائزہ، آبی سرمایہ کاری کو زرعی پیداوار اور کسانوں کی آمدنی سے جوڑنا، اور سطحی و زیرِ زمین پانی کا مربوط نظام شامل ہیں۔ انہوں نے صوبائی و وفاقی اداروں کے مشترکہ فریم ورک اور اگلے 12 ماہ میں کانفرنس کی سفارشات پر پیشرفت کا جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔











